اسرائیل سے منسلک گولان کی پہاڑیوں میں ڈرون گر کر تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے ایک گاؤں کے قریب ایک ڈرون گر کر تباہ ہو گیا۔ حماس سے تعلق رکھنے والے ایک عراقی مسلح گروپ نے علاقے میں حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔

اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ غالباً دھماکہ خیز مواد لے جانے والے شام سے داغے گئے ڈرون کو بدھ کی شام دیر گئے ایلیاد کی بستی کے جنوب میں مار گرایا گیا جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن کچھ مادی نقصان ہوا۔

اسرائیلی فوج نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈرون ایلیاد کے قریب گر کر تباہ ہوا تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

عراق میں اسلامی مزاحمت جو ایران کے حامی مسلح گروہوں پر مبنی ہے، نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے "مناسب ہتھیار" کے ساتھ الیاد کے جنوب میں ایک "اہم ہدف" کو نشانہ بنایا۔

اسرائیل نے بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ 7 اکتوبر کو حماس کے خونیں حملے کے بدلے میں اسے تباہ کرنے کی مہم جاری رکھے گا جس میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی بمباری اور زمینی حملے میں کم از کم 21,110 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد عراق میں اسلامی مزاحمت نے عراق اور شام میں امریکی اور بین الاقوامی اتحادی افواج کے خلاف متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایک امریکی فوجی اہلکار کے مطابق واشنگٹن نے 17 اکتوبر سے عراق اور شام میں اپنی افواج کے خلاف 103 حملے شمار کیے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر کی ذمہ داری عراق میں اسلامی مزاحمت کے ان دھڑوں نے قبول کی ہے جو حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی امریکی حمایت کی مخالفت کرتے ہیں۔

لیکن اس گروپ نے اب تک اسرائیلی مفادات کے خلاف چند براہِ راست حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں کا کچھ حصہ شام سے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں فتح کیا تھا اور 1981 میں اس علاقے کا اپنے ملک سے الحاق کر لیا تھا۔

الحاق کو اقوامِ متحدہ نے تسلیم نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں