اسرائیل پر سات اکتوبر حملہ، پاسداران انقلاب نے دعوی واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسداران انقلاب نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں کے حوالے سے اپنے متنازعہ بیان کو واپس لے لیا ہے۔

ایک روز قبل اس بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے مقتول جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے تھے۔ پاسدارن کے اس دعوے کی حماس نے فوری طور تردید کر دی تھی۔

اب جمعرات کے روز پاسداران کے ایک اہم مقتول کمانڈر رضی موسوی کی تدفین کے موقع پر پاسداران نے پچھلے بیان کو واپس لے لیا ہے تاکہ حماس کے ساتھ عوامی سطح پر کوئی تنازعہ نہ رہے۔

پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر کیے گئے حملے فلسطینیوں کی آزادانہ منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے اور اس میں فلسطین سے باہر کی کسی جماعت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے رضی موسوی کی تدفین کے موقع پر اپنے خطاب میں مزید کہا پاسدارن کے ترجمان نے جو کچھ کہا تھا کہ 7 اکتوبر کا حملہ جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے تھا لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ دونوں معاملے الگ الگ ہیں۔ طوفان الاقصیٰ ہمارے خون کا بدلہ لینے کی کوششوں سے الگ اور آزادانہ کوشش تھی۔

سوگواروں نے 28 دسمبر کو تہران میں بریگیڈیئر جنرل سید رضی موسوی کی تدفین میں بڑی تعداد میں شرکت کی۔ رضی موسوی کو 25 دسمبر میں شام میں ایک اسرائیلی حملے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

سلیمانی جنہوں نے دو دہائیوں تک قدس فورس کی سرابراہی کی تھی جنوری 2020ء امریکی فضائی حملے میں عراق میں مارے گئے تھے۔ ایران نے مسلسل جنرل سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کا مسلسل اعلان کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران حماس کی مالی اور فوجی مدد کرنے والا اہم ملک ہے جس نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے غیر معمولی حملے کی تعریف کی تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ براہراست اس حملے میں شامل نہیں تھا۔ حماس کے اس حملے کے بعد اسرائیل نے اب تک غزہ میں اکیس ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے جن میں زیادہ بڑی تعداد فلسطینی بچوں اور خواتین کی ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاسداران کے کمانڈر رضی موسوی کی ہلاکت ہی کے دن اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو اپنے اس جرم کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں