باغات کی بحالی کے منصوبوں سے صحرائی علاقوں کے نیچے کیا دریافت ہوا؟

نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن ڈیولپمنٹ اینڈ کامبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن نے 12 ملین درخت اور پودوں کی شجر کاری کرکے سبز سرزمین کا دائرہ وسیع کیا۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے 100 باغات کی بحالی شروع کر دی ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں سبزیوں کی نشوونما کے قومی مرکز کے ’سی ای او‘ ڈاکٹر خالد بن عبداللہ العبدالقادر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ پارکوں اور پانی والے سرسبز میدانوں کی بحالی کے منصوبوں سے پتا چلا ہے کہ وہاں پہلے بھی کسی دور میں سرسبز زمین موجود تھی مگر صحرائی عوامل کی وجہ سے وہ جگہیں صحراؤں میں تبدیل ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل سینٹر فار ویجیٹیشن ڈیولپمنٹ اینڈ کامبیٹنگ ڈیزرٹیفیکیشن نے 12 ملین درخت اور پودوں کی شجر کاری کرکے سبز سرزمین کا دائرہ وسیع کیا۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے 100 باغات کی بحالی شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرکز نے سبز علاقوں اور باغات کی بحالی کے اقدام کے انتظامی پلان، اس کے مقاصد اور ان پر عمل درآمد کے لیے شاہی ذخائر کے ساتھ شراکت داری اور تعاون کے طریقہ کار کو متعارف کرانے کے لیے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا۔

مرکز نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز رائل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی، شاہ عبدالعزیز رائل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی، امام ترکی بن عبداللہ رائل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی، امام عبدالعزیز بن محمد رائل ریزرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی، شاہ خالد رائل ریزرو اتھارٹی کے ساتھ سعودی عرب میں 1,000 سے زیادہ چھوٹے باغ اور بڑے باغات کی بحالی کے منصوبے پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ورکشاپ میں اقدام کے مقاصد، تشخیص کے لیے استعمال ہونے والے معیار، بحالی کے کاموں میں استعمال ہونے والی تکنیکوں، بحالی کے عمل کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے سب سے اہم طریقے اور سب سے نمایاں شعبوں کے بارے میں کئی اہم موضوعات شامل تھے۔

بحالی کے کاموں میں مرکز اور شاہی ذخائر کے درمیان تعاون اور شراکت داری، ٹارگٹڈ ڈیولپمنٹ اور کمیونٹی پارٹنرشپ سمیت دیگر امور پر رہنمائی فراہم کی گئی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ مرکز نے باغات کی بحالی کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد شروع کر کے 12 ملین درخت اور پودے لگائے۔ بارش کے پانی کو جمع کرنے کی تکنیک استعمال کر کے 100 باغات کی بحالی پر کام شروع کیا گیا۔ جب کہ مملکت میں مجموعی طور پر 19 لاکھ ہیکٹر انحطاط شدہ اراضی میں دو لاکھ 25 ہزار ہیکٹرپر باغات تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس طرح اس منصوبے کے تحت آئندہ وژن 2030 تک ماحولیاتی پائیداری کو بڑھانے اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیے گئے گرین انیشیٹو پروگرام کے تحت 10 بلین درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں