جب فلسطینی ریاست قائم ہوگی تواسرائیل کو تسلیم کرنے پر بات کریں گے: خالد مشعل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں جنگ کو روکنے کے اقدامات کے بارے میں گفتگو کی روشنی میں حماس کے بیرون ملک امور کے سربراہ خالد مشعل نے کہا ہے کہ جب فلسطینی ریاست کے قیام کا وقت آئے گا تو ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے پر بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حماس ثالثوں کے ساتھ تمام حل طلب مسائل پر بات چیت اور مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

"امریکا کو اعتماد میں لینے کی کوشش "

خالد مشعل کے ان بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے ’العربیہ‘ کو دیے گئے رد عمل میں کہا کہ مشعل واشنگٹن کو اپنی اسناد پیش کرنے اور واشنگٹن کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مشعل کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گذشتہ ہفتے سے قاہرہ0020میں فلسطینی تنظیم حماس اور اسلامی جہاد کے درمیان غزہ میں مستقل جنگ بندی کی کوششوں میں گہرے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب دوسری طرف غزہ پر اسرائیلی جارحیت میں اب تک 21,000 معصوم شہری شہید ہو چکے ہیں۔

حماس کے قیدیوں کی فائل کے ذمہ دار زاہر جبارین نے کہا کہ "تمام فلسطینی دھڑے پہلے جنگ بندی پر متفق ہیں، اس کے بعد کسی بھی چیز پر بات چیت کی جائے گی"۔

"تمام آپشنز میز پرموجود ہیں"

حماس رہ نما زاہر جبارین نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بیانات میں کہا کہ "عمومی طور پر ہمارا موقف واضح ہے۔ ہم ان تمام خیالات کے لیے کھلے پن کا مظاہرہ کررہے ہیں جو جامع جنگ بندی کا باعث بن سکیں"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "حماس کے سامنے بہت سے اقدامات اور آپشنز پیش کیے گئے ہیں۔ ہم تمام ممکنہ اقدامات کے لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

سب سے پہلے جنگ بندی

زاہرجبارین نے غزہ کے حوالے سے مصری تجویز کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ قومی سلامتی سے متعلق ہے اور میں اس پر میڈیا میں بات نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کو روکیں اور اس کے بعد ہم ان تمام نظریات کے بارے میں بات کریں گے جو پیش کیے جاسکتے ہیں"۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ مسئلہ صرف قیدیوں سے متعلق نہیں ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تنازعہ 75 سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ مسئلہ اسرائیل اور اس کا قبضہ ہے۔

’’صبر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں‘‘

جنگ کو طول دینے کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے بیانات پر پر بات کرتئ ہوئے حماس رہ نما نے زور دے کر کہا کہ حماس کے پاس "ثابت قدمی اور صبر کے ساتھ" جنگ لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم انہیں مہینوں، سالوں یا دہائیوں کے بعد شکست دیں گے۔

خیال رہے کہ منگل کواس مصر کا ایک خفیہ جنگ بندی فارمولا لیک ہوا تھا جس میں غزہ میں جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کی شرائط ، اسرائیل اور حماس کے درمیان تین مرحلوں میں قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے کا انکشاف کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں