فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں بے گھر بچے دوسرے بے گھر بچوں کے ہمدرد بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری اور مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہوجانے والے بچوں اور نوجوانوں نے ہمت ہار کر بیٹھنے کی بجائے اپنے ہی طرح کے بے گھر بچوں کے درد کو بانٹنا اور ان کو حوصلہ دینا شروع کردیا ہے۔ ان بے گھر باہمت بچوں نے اس سلسلے میں رفح کے پناہ گزین کیمپ میں صدمے میں گھرے ہوئے بچوں کے لیے کونسلنگ کا اہتمام شروع کردیا ہے تاکہ وہ اپنے صدمے کی کیفیت سے نکل سکیں۔

رضاکار بننے والے یہ فلسطینی نوجوان دوسرے بے گھر فلسطینی بچوں کے درد کو خوب سمجھتے ہیں تاہم یہ دوسروں کے مقابلے میں تعلیم کے شعبے میں کچھ درجے اوپر ہیں یا عملی زندگی کی کچھ مہارتیں رکھنے والے ہیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔ ان رضاکار نوجوانوں نے اپنے لیے ہدف طے کیا ہے کہ وہ سب سے پہلے ان 300 بچوں کو اپنی کونسلنگ میں لائیں گے جن کے پاس بظاہر اب کوئی سہارا نہیں رہا ہے، کوئی تحفظ نہیں رہا ہے اور وہ بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو غیر محفوظ بھی سمجھنے لگے ہیں۔ رضاکاروں کی یہ ٹیمیں انہیں ہنسانے، کھلانے اور واپس زندگی کی طرف لوٹ آنے کی طرف مائل کر رہی ہیں۔ یہ ان کے لیے کھیل کود اور ڈراموں کا بھی اہتمام کر رہے ہیں تاکہ وہ غم کی اس صدمے کو پہنچی ہوئی کیفیت سے کچھ دیر کے لیے نکل سکیں۔

شوروق طہٰ نے کہا ہے ہم چاہتے ہیں کہ دھماکوں، بمباری اور اموات کو سامنے دیکھنے کے بعد ان بچوں میں جو منفیت اور مایوسی پیدا ہوئی ہے اس کا ازالہ کریں تاکہ وہ مستقل طور پر ان کے دلوں میں گھر نہ کرلیں۔ ہم اپنی بہترین کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی ٹیم کو استعمال کرتے ہوئے منظم طریقے سے بے آسرا بچوں کو نارمل زندگی کی طرف لاسکے۔ ہم ان کے دکھ اور درد کو سمجھتے ہیں اس لیے ہم ان کے چہروں پر ہنسی اور خوشی دیکھنا چاہتے ہیں۔ طہٰ نے کہا ان کے ساتھ کھیلنے سے ان کے دباؤ میں کمی کرنے میں مدد ملتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ دباؤ میں کمی ہونے کی صورت میں یہ اپنی مشکلات سے بہتر طریقے سے نمٹ سکیں گے۔

طہٰ نے مزید کہا کہ میں خود بھی سمجھتا ہوں کہ مجھے بھی اندورنی دباؤ کا سامنا ہے لیکن ان بچوں کے ساتھ کھیل کر اس دباؤ میں کمی محسوس کرتا ہوں۔ کیمپ میں سرگرمیوں میں حصہ لینے والے تین بچوں کی بے گھر ماں شیریں الفقاوی نے کہا کہ اس کے بچوں پر رضاکار نوجوانوں کی سرگرمیوں کے مثبت اثرات ہوئے ہیں۔ میوزک اور کھیلوں کی سرگرمیوں سے ایسا لگتا ہے کہ بچوں نے نفسیاتی ریلیف محسوس کیا ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے گیارہ ہفتوں پر پھیلی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں بیس لاکھ فلسطینی بے گھر ہوئے ہیں جن میں دس لاکھ بچے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں