نیو یارک اور لاس اینجلس میں فلسطین کے حق میں مظاہروں پر درجنوں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینیوں کے حامی مظاہرین کو امریکہ کے اہم ائیر پورٹس کے قریب درجنوں کی تعداد میں گرفتار کر لیا گیا۔ مظاہرین جو غزہ میں جنگ بندی کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کے لیے احتجاج کر کے فیصلہ سازوں کو متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے نیویارک اور لاس اینجلس کے ائیر پورٹس کو جانے والے راستوں کا مارچ کیا اور ٹریفک کا نظام در برہم کر دیا۔

واضح رہے دونوں ائیر پورٹ امریکہ ہی نہیں دنیا کے مصروف ترین ائیرپورٹس میں شامل ہیں۔ تاہم بعد ازاں درجنوں مظاہرین کو دونوں اہم شہروں سے حراست میں لے کر ٹریفک بحال کر دیا گیا۔ 30 افراد کو لاس اینجلس سے فلسطین کے حق میں مظاہرہ کرنے والے 36 مظاہرین کو لاس اینجلس ائیر پورٹ سے امریکی پولیس نے گرفتار کیا۔ ان گرفتاریوں کی پولیس نے بھی تصدیق کی ہے۔

مظاہرین نے اس موقع پر پولیس افسر کو دھکا دے کر گرا دیا اس موقع پر مظاہرین نے ائیر پورٹ جانے والی ٹریفک میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے تعمیراتی ملبے، ٹریفک سگنلز، درختوں کی شاخوں اور کنکریٹ کے بنے بلاکس استعمال کیے۔ پولیس کے بیان کے مطابق جن راہگیروں نے ان کے ساتھ مظاہرے میں شامل ہونے سے انکار کیا ان کی گاڑیوں پر حملے کی کوشش کی۔

ائیر پورٹ کے داخلی راستے کو بغیر کسی جھگڑے کے دوبارہ 45 منٹوں کے بعد کھول دیا گیا۔ پورے ملک میں پورٹ سے متعلقہ پولیس اتھارٹی نے کہا 26 مظاہرین کو کوئینز کے جان ایف کینیڈی کے اندر وین وک ایکسپریس وے کی ٹریفک میں خلل ڈالنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

ٹریفک میں خلل کے دوران پورٹ اتھارٹی نے نے دو ائیر پورٹ بسوں کو مسافروں کو بحفاظت ائیر پورٹ تک پہنچانے کے لیے روانہ کیا جو کہ ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے۔

پولیس کے مطابق سڑک کو ٹریفک کے لیے دوبارہ بیس منٹ کے بعد کھول دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں