فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی سفارتخانے نے سیول میں حماس حملوں کی ویڈیو سوشل میڈیا سے ہٹا دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کوریا کے دارالحکومت سیول میں حماس کے مبینہ حملے کی ویڈیو کو اسرائیلی سفارت خانے نے سوشل میڈیا سے ہٹا دیا ہے۔ اس ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ چہروں پر ماسک چڑھائے چند افراد مبینہ طور پر کوریا کے شہریوں پر حملہ کر رہے ہیں۔

کوریا کی وزارت خارجہ نے اس ویڈیو کے بارے میں اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ویڈیو مناسب نہیں ہے۔ اس لیے وزارت خارجہ نے اسرائیلی سفارت خانے سے کہا تھا کہ اس ویڈیو کو ہٹا دیا جائے۔

اب سفارت خانے نے سوشل میڈیا سے یہ ویڈیو ہٹا دی ہے۔ اس ویڈیو میں ایک مسیحی خاتون کو کرسمس کے دن دارالحکومت سے اغواء کیا گیا، اسے اس کی بیٹی سے زبردستی الگ کر دیا گیا۔

جنوبی کوریا تکنیکی اعتبار سے جوہری طاقت کے حامل شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہے۔

1950 سے 1953 کے درمیان دونوں کے درمیان جنگ ہو چکی ہے۔ ان کے درمیان جنگ کا خاتمہ کسی تصفیے پر نہیں جنگ بندی پر ہوا تھا۔

کوریا کی وزارت خارجہ کا موقف ہے کہ حماس کے اسرائیل پر حملے کا کوئی جواز نہیں سمجھتا ، لیکن اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے اس طرح کی ویڈیو کو ڈیزائن کرنا اور کوریا میں تقسیم کرنا بھی درست نہیں۔ اس لیے ہم نے سفارتخانے کو بتادیا ہے۔

"ہم نے اپنے موقف سے جنوبی کوریا میں اسرائیلی سفارت خانے کو آگاہ کر دیا ہے اور اسرائیلی فریق نے زیر بحث ویڈیو کو حذف کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں