امریکہ نے حوثیوں کو ملنے والے فنڈز کی فراہمی کو نشانے پر لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد امریکہ نے حوثیوں کو فراہم کیے جانے والے فنڈزکا راستہ روکنے کا اہتمام کر لیا ہے۔

جمعرات کے روز امریکہ ایک فرد اور تین کرنسی تبدیل کرنے والے اداروں کے خلاف پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ ان میں کرنسی تبدیل کرنے والے دو ادارے یمن سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ایک کا تعلق ترکی سے ہے۔

امریکہ کی طرف سے ان تین کرنسی تبدیل کرنے والی کمپنیوں اور ایک فرد پر الزام لگایا ہے کہ سب یمن کی حوثی ملیشیا کو وسائل مہیا کرنے میں ملوث ہیں۔ اس امر کا اظہار امریکی وزارت خزانہ اپنے پابندیاں لگانے سے متعلق اعلان میں کیا ہے۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان میں کہا ' آج کا اقدام اس امر کو نمایاں کرتا ہے ہم حوثیوں کی طرف وسائل کے بہاؤ کو روکنے کا عزم رکھتے ہیں۔ کیونکہ حوثی عالمی جہازوں پر خطرناک حملے کرتے رہے ہیں۔ جن کی وجہ سے خطے کے غیر مستحکم ہونے کا خطرہ ہے۔

واضح رہے حوثی 19 نومبر سے تقریباً مسلسل بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں ایک درجن کے قریب جہازوں کو اپنے ڈرون اور میزائل حملوں کو نشانہ بنایا ہے۔

اس وجہ سے ان آبی راستوں سے شروع میں بحری جہازوں کی نقل و حمل کافی متاثر ہوئی اور پھر حوثی دھمکیوں کے بعد جہازراں کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو ان راستوں سے گذرنے سے روک دیا۔

اب امریکہ کے زیر قیادت ایک ٹاسک فورس قائم ہوئی ہے جو جہازوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی ، برطانوی اور فرانسیسی جہاز حوثیوں کے چلائے گئے ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنارہے ہیں۔

یہ مشترکہ ٹاسک فورس حوثی حملوں کے پیچھے ایرانی کردار دیکھتی ہے، تاہم ایران ان حملوں میں ملوث ہونے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں