فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی رقوم کے حوالے سے امریکی صدر اور نیتن یاھو میں ’مایوس کن‘ فون کال

صدرجوبائیڈن نے نیتن یاھو پر زور دیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس اسے ادا کریں مگر یاھو نے ٹال مٹول سے کام لیا جس پرجوبائیڈن نے فون بند کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق گذشتہ ہفتےامریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے لیے جمع کیے جانے والے ٹیکس محصولات کا کچھ حصہ روکنے کے اسرائیلی فیصلے کے حوالے سے "مشکل" گفتگو کی۔ حکام کا کہنا ہےکہ جوبائیڈن نے یہ کہہ کر فون بند کردیا کہ ’یہ گفتگو یہیں ختم کی جاتی ہے‘‘۔

ایک امریکی اہلکار نے بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی کال کو "مایوس کن اور سب سے مشکل بات چیت" قرار دیا۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ یہ کال بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔

AXIOS کے مطابق کال میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے لیے جو ٹیکس ریونیو اکٹھا کرتا ہے، وہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پہلے سے مالی مشکلات کا شکار فلسطینی اتھارٹی کو یہ ٹیکس ادا نہ کیے گئے تو اس کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔

انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے اکتوبر میں حماس کے جنوبی اسرائیل پر حملے کے بعد تمام ٹیکس ریونیو فنڈز کی منتقلی کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن اسرائیلی حکومت نے کہا تھا کہ وہ حماس کے زیرانتظام غزہ میں جانے والے فنڈز کے علاوہ دیگر تمام فنڈز فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کریں گے۔

Axios ویب سائٹ کے مطابق یہ معاملہ نیتن یاہو کے لیے کانٹا بن گیا ہے، جنہیں بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے فنڈز جاری کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ دوسری طرف نیتن یاھو کو اپنے اتحادیوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ سموٹریچ جنہوں نے کسی بھی فنڈز کے اجراء کی مخالفت کا اظہار کیا حکومت سے علاحدگی کی بھی دھمکی دی تھی۔

بائیڈن اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی کال کے بارے میں اسرائیلی اور امریکی حکام نے ’ایکسیس‘ سائٹ کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے کے روز 45 منٹ کی کال میں اسرائیلی زمینی کارروائی کے اگلے مرحلے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، لیکن کال کے اختتام پر بائیڈن نے فلسطینی ٹیکس روکے جانے کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کے مطابق بائیڈن نے نیتن یاہو سے کہا کہ انہیں اس معاملے پر اپنے اتحاد میں سخت گیر لوگوں کا مقابلہ کرنا چاہیے جس طرح وہ غزہ کی جنگ پر کانگریس کے سیاسی دباؤ سے نمٹ رہے ہیں۔

چند منٹ کی بات چیت کے بعد بائیڈن نے نیتن یاہو کو بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ بات چیت یہیں ختم کرتے ہیں اور کال ختم کر دی گئی‘‘۔

اہلکار نے مزید کہا کہ بائیڈن نیتن یاہو کے فون کے چند دن بعد یہ معاملہ اسرائیلی وزیر رون ڈرمر کی وائٹ ہاؤس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے دوران دوبارہ سامنے آیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں