اسرائیلی بمباری سے ملبے تلے پھنسی شیر خوار بچی کو زندہ نکال لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں تباہ شدہ بستیوں اور ملبے سے فلسطینیوں کو زخمی اور مردہ حالت میں 'ریسکیو' کرنے والے رضا کاروں نے ایک بچی کو زندہ نکال لیا ہے۔ یہ بچی اسرائیلی بمباری سے تباہ ہونے والے اپنے گھر کے ملبے تلے دب گئی تھی۔ اس کی ماں اسی بمباری میں شہید ہو گئی مگر قدرت نے اس کی زندگی باقی رکھی تھی۔

نارنجی رنگ کی رضاکاروں والی جالی دار جیکٹیں پہنے رضا کار اس گھر کا ملبہ اٹھا کر لاپتہ ہو چکے افراد کا پتہ چلا رہے تھے ان میں یہ بچی بھی لاپتہ تھی۔ مگر یہ کسی کو امید نہ تھی کہ یہ ابھی تک ملبے کے نیچے پڑی زندہ رہی ہو گی۔

اچانک رضا کاروں نے بچی کی ایک نحیف سے آواز ملبے کی طرف سے سنی۔ یہ آواز یہ تو بتا رہی تھی کہ اس ملبے میں کوئی ذی روح ابھی زندہ ہے مگر اس کی اب ایسی کوئی شناخت نہ تھی کہ اسے ملبے سے الگ پہچانا یا نکالا جا سکتا۔ تاہم آواز مسلسل آنے لگی۔ یوں رضاکاروں کو یقین ہو گیا کہ اس ملبے کے نیچے ایک جان سلامت ہے۔

تگ و دو کے بعد ملبے سے خاکستری رنگ میں ڈھل چکی بچی کا جسم شناخت ہو گیا۔ وہ بالکل ملبے کے رنگ میں نظر آرہی تھی کہ اس کے جسم کا کوئی حصہ بھی ملبے سے باہر نہ رہ سکا تھا۔

رضا کار نے بے چینی سے اس بچی کو اٹھایا اور ہسپتال کی طرف دوڑ پڑا ، اس کے ہاتھوں میں ایک معجزہ ہو رہا تھا۔ وہ بچی زندہ تھی۔ یہ ابو عدوان کے گھر کا ملبہ تھا، جو بمباری سے گھر کے بجائے ملبہ بن چکا تھا۔ جبکہ مریم کا بچا کھچا خاندان ایک اور جگہ پناہ لے چکا تھا۔ اسی روز وزارت صحت کے ترجمان اشرف االقدرہ نے بتایا ' بمباری سے بیس لوگ ہلاک اور پچپن زخمی ہوئے ہیں۔

ابو عدوان کے خاندان نے اپنے گھر میں بہت سارے دوسروں کو پناہ دی تھی۔ ان پناہ لینے والوں میں ابو عقیل کا خاندان بھی تھا۔ مریم کی والدہ اور بہن اسرائیلی بمباری کے دوران ابو عدوان کے خاندان اور دوسرے کئی خاندانوں کے ساتھ جاں بحق ہو چکی تھی۔ البتہ اس کے والد اور چھوٹے بھائی کی جان بچ گئی تھی۔

رضا کار اس زندہ بچ جانے والی کو لے کے ہسپتال بھاگ رہا تھا۔ اس نے اپنی اس کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ' میں بچی کو زندہ دیکھ کر ہیبت زدہ ہو گیا۔ میں اللہ کی طاقت اور قدرت کا معجزہ دیکھ رہاتھا، میں کانپ رہا تھا۔'

رفح کے اس ہسپتال میں ڈاکٹر پہلے سے پہنچے زخمیوں کو دیکھ رہے تھے۔ رات کو ہونے والی اسرائیلی بمباری کے زخمیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ وہیں 13 سالہ نادین عبدالطیف رفح میں گھر کے پاس ڈھیروں ملبے کے ساتھ کھڑی تھی۔

جب غزہ شہر میں ان کا اپنا گھر ایک فضائی حملے کے نتیجے میں تباہ ہو گیا تھا جس میں اس کا بڑا بھائی ہلاک ہو گیا تھا۔ اسی ملبہ بنے گھر میں تو اس کے خاندان نے پناہ لی تھی۔ وہ سوچنا بند نہ کر سکتی تھی وہ بھی اس حملے میں نہیں بچے گی۔ اس کا ایک بھائی پاس ہی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر میں خوفزدہ ہو گئی۔ ایسا خوف کہ میں اپنی جگہ سے ہل ہی نہ سکی۔

ہسپتال میں ایک کہانی بھی تھی۔ یہ ایک دوسری جگہ پر اسرائیلی بمباری سے متعلق تھی ۔ بمباری کے بعد امدادی کارکنوں نے دو نوزائیدہ بچیوں کو باہر نکال لیا تھا۔ ایک ایمبولینس میں، طبیبوں نے ان کے چہروں سے دھول کی ایک موٹی تہہ صاف کی ایک بری طرح سے خون میں لت پت تھا ۔ سامنے بیٹھا لڑکا یہ سب دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے کر رہا ہے اور امریکہ کہتا ہے کہ اسے اپنے دفاع کا حق ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی سب اس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں