بیت المقدس کے قدیمی آرمینی باشندوں کا اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف ڈٹے رہنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یروشلم میں آرمینی باشندوں کے روایتی اور قدیمی رہائشی علاقے کے سلسلے میں آسٹریلین اسرائیلی سرمایہ کار سے کیے گئے معاہدے کے خلاف یروشلم میں غم و غصہ بھڑک اٹھا ہے۔ مشرقی یروشلم کے رہائشی آرمینی باشندوں کا ایک بڑا فیصد علاقہ اس ڈیل کی زد میں آئے گا۔

اسرائیلی ڈیل کے تحت آرمینی تعمیرات کو بلڈوزر سے ہموار کر کے ان کی جگہ یہودی آباد کاروں کے لیے پر تعیش ہوٹل قائم کیا جائے گا۔ جبکہ اس علاقے کی قدیمی آبادی کو بے دخل کر دیا جائے گا۔ آرمینی آبادی کے نوجوانوں کی بڑی تعداد میں گھروں کو مسمار کرنے والے بلڈوزروں کا راستہ روکنے کے لیے ان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

ایک آرمینی تاجر کا کہنا تھا یہودی آباد کار ہم آرمینی کمیونٹی کی طاقت کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہوئی ہے اس لیے اس نے ہمیں تباہ کرنے کے لیے بلڈوزر لگائے ہیں۔ ہم پرامن احتجاج شروع کر رہے ہیں اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ ہم خوفزدہ ہیں یا خوف زدہ کیا جاسکتا ہے۔

آرمینی نوجوانوں نے یہودی تعمیرات روکنے کے لیے خیمے لگا کر ان میں رہنا شروع کر دیا ہے اور ہر قیمت پر مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ اسرائیلی تعمیرات روکیں اور اپنی زمین بچا سکیں۔

آرمینی آبادی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعرات کے روز 30 سے زائد مسلح افراد نے آرمینی شہریوں اور پادری پر حملہ کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ' اس حملے کی ذمہ داری رئیل اسٹیٹ ڈویلپر ڈینی روتھمین پر عاید ہوتی ہے۔ 'یہ حملہ پادری کی طرف سے اس غیر قانونی اور متنازعہ ڈیل کو عدالت میں چیلنج کیے جانے کے فوری بعد کیا گیا تھا۔

واضح رہے مشرقی یروشلم مسلمانوں، مسیحیوں، یہودیوں اور آرمینی عوام میں بٹا ہوا ہے۔ اسرائیل نے اس پر 1967 میں قبضہ کیا تھا، لیکن بین الاقوامی برادری نے اسرائیلی قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

اس علاقے میں زمین سے متعلق حقوق جھگڑے کی بنیاد ہیں۔اسرائیل اپنی یہودی بستیوں کی تعمیر اس جھگڑے کو بڑھانے کا باعث ہے۔ اسرائیل اپنے جبری اور قبضہ جاتی ہتھکنڈوں سے مقامی آبادی کو بے دخل کرنے کی کوشش میں رہتی ہے۔

اس قدیمی شہر میں اب آرمینی آبادی کے صرف دوہزار افراد اپنے علاقے میں باقی رہ گئے ہیں۔ باقی سب امریکہ اور مغربی ممالک کی طرف چلے گئے۔ آرمینی آبادی کی اکژیت نے بھی فلسطینی عوام کی طرح اسرائیلی شہریت قبول نہیں کی ہے۔

اس سلسلے میں تنازعہ اس وقت اٹھا جب ماہ اپریل میں تل ابیب نے اس زمین کو ہتھیانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کیں۔ آرمینی زمین کا 2،8 ایکڑ کا قطعہ ایک کمپنی کو اسرائیل 99 سال کے لیے لیز پردے رہا ہے۔ اس پر پادری اور ساری آرمینی آبادی میں رد عمل شروع ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں