نیتن یاہو کا غزہ سے ’اونروا‘ کو نکال باہر کرنے کا مرحلہ وار منصوبہ کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موجودہ جنگ کے تناظر میں نیتن یاہو کی جانب سے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین ’اونروا‘ کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ وزارت خارجہ کی "ٹاپ سیکرٹ" رپورٹ میں سفارشات شامل ہیں کہ یہ قدم 3 مرحلوں میں اٹھایا جائے۔"جن میں سے پہلا ایک جامع رپورٹ میں ’اونروا‘ اور حماس جسے امریکا دہشدت گرد تنظیم قرار دیتا ہے کے درمیان مبینہ تعاون کو ظاہر کرنا ہے"۔

’اونروا‘ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وہ "پانچ ملین 90 لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزینوں کو امداد، تحفظ اور مدد فراہم کرتا ہے"۔

ٹائمز آف اسرائیل اور اسرائیلی ٹی وی چینل کی رپورٹس کے مطابق اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں "فلسطینی پٹی میں ’اونروا‘ کی کارروائیوں کو کم کیا جائے گا۔ غزہ میں فلسطینیوں کو تعلیم اور سماجی نگہداشت کی خدمات فراہم کرنے کے لیے مختلف تنظیموں کی تلاش کی جائے گی"۔

تیسرا مرحلہ "ریلیف ایجنسی‘‘ کے تمام افعال اور سرگرمیوں کو غزہ میں جنگ کے بعد حکومت کرنے والی اتھارٹی کو منتقل کردیا جائے گا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ مستقبل قریب میں اسرائیلی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ نے ڈچ سگریڈ کاگ کو غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کی نگرانی کے لیے کوآرڈینیٹر مقرر کیا تھا۔ یہ تقرر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی کے حوالے سے منظور کی گئی قرارداد کے بعد عمل میں لایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاگ غزہ میں انسانی امور اور تعمیر نو کے لیے کوآرڈینیٹر ہوں گی اور 8 جنوری کو اپنا کام شروع کریں گی۔ ان کی ذمہ داریوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سامان کی ترسیل، سہولت، ہم آہنگی، نگرانی اور امداد کی تصدیق شامل ہوگا۔

جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ’انروا‘ کے امدادی قافلوں میں سے ایک پر فائرنگ کی۔ اس حملے کی تصدیق غزہ میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی کے ڈائریکٹر تھامس وائٹ نے کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں