امریکی سینٹرل کمانڈ کا حوثیوں کی 3 کشتیاں ڈبونے اور ان کے عملے کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ حوثیوں کی کشتیوں نے جنوبی بحیرہ احمر میں ایک تجارتی جہاز اور امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹروں پر حملہ کیا جس کے جواب میں امریکی فوج نے جوابی کارروائی کی اور حوثیوں کی متعدد کشتیوں کو ڈبو دیا اور ان کے عملے کو ہلاک کردیا گیا۔

سینٹرل کمانڈ نے اتوار کے روز ایک بیان میں مزید کہا کہ میرسک انٹرنیشنل سے تعلق رکھنے والے ایک کنٹینر جہاز نے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں دوسری بار مدد کے لیے اس وقت کال کی جب اس پر چار حوثی کشتیوں نے حملہ کیا تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ امریکی ہیلی کاپٹروں نے مشکل میں پھنسے جہاز کی کال کا جواب دیا اور کشتیوں نے حوثیوں کی کشتیوں پر فائرنگ کی۔ امریکی ہیلی کاپٹروں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کا جواب دیا اور چار میں سے 3 کشتیوں کو ڈوب کر ان کے عملے کو ہلاک کردیا جب کہ چوتھی کشتی علاقے سے فرار ہوگئی۔

میرسک نے تصدیق کی کہ اس کے ایک بحری جہاز پر سنگاپور سے نہر سویز جاتے ہوئے حملہ کیا گیا۔ جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس نے اپنا سفر جاری رکھا۔

میرسک نے بحیرہ احمر میں 48 گھنٹوں کے لیے تمام جہاز رانی کی کارروائیوں کو روکنے کا اعلان کیا۔

برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے آج اتوار کو کہا کہ اسے بحیرہ احمر میں یمنی بندرگاہ حدیدہ سے 60 ناٹیکل میل شمال مغرب میں ایک بحری جہاز پر حملے کی اطلاع ملی ہے۔

اتھارٹی نے ایک انتباہی نوٹ میں مزید کہا کہ ایک نامعلوم جہاز پر بندرگاہ کی طرف سے تین کشتیوں کے ذریعے حملہ کرنے کی اطلاع ملی جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

پینٹاگون کے مطابق حوثیوں نے 35 سے زائد مختلف ممالک سے منسلک 10 تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے 100 سے زیادہ حملے کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں