فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کے ساتھ قیدیوں کی ڈیل کےلیے موساد چیف کو گرین سگنل مل گیا: اسرائیلی میڈیا

ممکنہ ڈیل میں غزہ میں کئی ہفتوں کی جنگ بندی اور اسرائیل میں سنگین نوعیت کی سزاؤں کے حامل قیدیوں کی رہائی کی تجویز بھی شامل ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے ہفتے کی شام کہا ہے کہ اسرائیل کی جنگی کونسل نے انٹیلی جنس ادارے ’موساد‘ کے انٹیلی جنس کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا کو قطر کے حالیہ اقدام کے مطابق حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے گرین سگنل دیا ہے۔

عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے 11 کے مطابق قطری تجویز میں کئی ہفتوں کی جنگ بندی کے بدلے درجنوں اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور طویل قید کی سزا پانے والے فلسطینی اسیران کی رہائی شامل ہے۔

اسرائیلی چینل نے مزید کہا کہ "قطری حکام کے مطابق حماس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے اب جنگ روکنے کا مطالبہ نہیں کر رہی ہے"۔

چینل 11 نے عندیہ دیا تھا کہ جنگی کونسل اتوار کو اس معاہدے پر بات کرنے کے لیے ملاقات کرے گی، لیکن اسرائیلی چینل 12 نے کہا کہ تبادلے کے معاہدے میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

چینل 12 کے مطابق قطرنے پہلے ہی جمعرات کی صبح اسرائیل کو حماس کے موقف میں تبدیلی سے آگاہ کر دیا تھا۔ اس سے قبل حماس قیدیوں کے تبادلے کے عمل کے لیے بات چیت کو جنگ بندی سے مشروط کررہی تھی مگراب اس نے جنگ کے دوران بھی قیدیوں کے حوالے سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ٹی وی چینل نے مزید کہا کہ "حماس جنگ کے مکمل خاتمے کے اپنے عوامی مطالبے کو ترک کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے اصولی طور پر تیار ہے، لیکن ابھی تک کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے صرف ابتدائی اشارے اور پیغامات سامنے آئے ہیں"۔

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ہفتے کی شام کہا تھا کہ "اگر تبادلے کا معاہدہ ہوتا ہے تو اس پر عمل درآمد کیا جائے گا"۔

جمعہ کو ایک باخبر فلسطینی ذریعے نے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنوری کے وسط کے بعد ایک نیا معاہدہ طے پا جائے گا جس کے تحت قیدیوں کی رہائی ممکن ہوسکے گی۔

ایک فلسطینی ذریعے نے گذشتہ ہفتے عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "حماس نے عارضی جنگ بندی کے لیے بات چیت کا دروازہ بند نہیں کیا ہے جو مصری تجویز کے مطابق طویل جنگ بندی کی راہ ہموار کرے گا، لیکن اسے حماس کی عسکری قیادت کی رائے کا انتظار ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں