فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ: تدفین کے لیے بچے کی لاش دستی ٹرالی پر لے جانے کا تکلیف دہ منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ میں تین ماہ سے جاری وحشیانہ جارحیت اور بربریت کے نتیجے میں شہری آبادی انتہائی تکلیف دہ مشکلات کا شکار ہے۔ آئے روز اس ہولناک جنگ کے خوفناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

تازہ ترین دل دہلا دینے والے سانحات میں ایک نیا سانحہ پیش آیا ہے جس میں ایک فلسطینی شہری کو اپنے کم سن بچے کی لاش کو سامان منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دستی ٹرالی میں رکھ کرتدفین کے لیے لے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس غم زدہ شخص کو دیگر آبادی کی طرح محاصرے کی شدت کی وجہ سے ایندھن، خوراک؛ پانی اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کی شدید کمی کا سامنا ہے جس کی ایک تازہ مثال بچے کی لاش کو سامان کی ریڑھی پر لے جانے کے واقعے سے لی جا سکتی ہے۔

21 ہزار سے زاید شہید

یہ بات قابل ذکر ہے کہ تین ماہ قبل غزہ ایک گنجان آباد بستی تھی مگر آج یہ کھنڈر بن چکا ہے۔

فوری طور پر جنگ بندی کے حل یا چند دنوں تک جنگ بندی کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔

حماس نے دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی کے آس پاس کے علاقوں پر اچانک حملہ کیا، جس میں 1200 اسرائیلی ہلاک اور 240 دیگر کو گرفتار کر لیا۔

تل ابیب نے بدلہ لینے کے لیے غزہ کی پٹی کے خلاف فوجی مہم کا جواب دیا، جس میں اب تک 21,000 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ شہید ہونے والوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں