غزہ جنگ اخلاق و قانون کے مطابق اور بے مثال ہے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں لڑنے والی اسرائیلی فوج کی اخلاقی و قانونی پوزیشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیلی فوج غزہ کی جنگ میں غیر معمولی اور مثالی کردار پیش کر رہی ہے، جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ خیال رہے وہ جنوبی افریقہ کی طرف سے بین الاقوامی عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف دائر کردہ مقدمے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے بارے میں کئی مسلم اور عرب ممالک کے علاوہ بھی کئی ملک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں اور ان میں سے بہت سوں نے اسرائیل کو غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔ تاہم جنوبی افریقہ واحد ملک ہے جس نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا کہ اس کے جنگی جرائم کا نوٹس لیا جائے۔

واضح رہے جنوبی افریقہ نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ جنوبی افریقہ کا شروع سے یہ موقف ہے کہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف کارروائیاں نسل پرستانہ بنیادیں رکھتی ہیں اور اسرائیلی اپروچ نسل پرستانہ ہے۔ اسی بنیاد پر نیلسن منڈیلا بھی فلسطینیوں کے غیر معمولی ہمدرد اور حامی رہے۔

نیتن یاہو نے کابینہ کے اجلاس میں کہا ہم غزہ میں اپنی جنگ ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔ نیتن یاہو نے کہا نسل کشی کا مرتکب ہم نہیں حماس ہے۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ ہم سب کو مار دیتا۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 21800 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں