غزہ میں 20 لاکھ فلسطینی ناقابل قبول ہیں: اسرائیلی وزیر کا ایک اور اشتعال انگیز بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی جنگ کے دوران مقامی فلسطینی آبادی کو بے گھر کرنے کےمنصوبے کے ساتھ انہیں ایک بار پھر ھجرت پرمجبور کرنے کی خفیہ اسکیمیں بھی سامنے آنے لگی ہیں۔ اسی ضمن میں اسرائیلی وزیر خزانہ اور شدت پسند لیڈر بزلئیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ ’اسرائیل کو غزہ میں دو ملین فلسطینی آبادی کسی صورت میں قبول نہیں‘۔

غزہ کی پٹی میں بیس لاکھ فلسطینی

اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق اتوار کے روز سموٹریچ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو ایسی صورت حال کو قبول نہیں کرنا چاہیے جس میں غزہ کی پٹی میں بیس لاکھ فلسطینی رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد جنگ کے خاتمے کے بعد کے دن کے مسئلے کی بات چیت کا حصہ ہے اور اس کا طریقہ کار تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پربحث جنگی کونسل کا نہیں بلکہ کابینہ کا کام ہے جس میں ان کی جماعت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تل ابیب ایسی صورتحال کی اجازت نہیں دے گا جس میں غزہ میں 20 لاکھ لوگ رہتے ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر غزہ میں ایک یا دو لاکھ عرب ہوتے تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب اسرائیلی وزیر خزانہ نے غزہ کی آبادی کے بارے میں متنازع بات کی ہے۔

گذشتہ نومبر میں سموٹریچ نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے مغربی کنارے میں بفر زون بنانے کا مطالبہ کیا تھا جہاں سے عرب داخل نہیں ہوں گے۔ اس سے فلسطینی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک ردعمل سامنے آیا اور اس نے سموٹریچ کے بیان کو "نوآبادیاتی، نسل پرستانہ اور مغربی کنارے کو ضم کرنے کے قابض اسرائیل کے عزائم کا آئینہ دار قرار دیا تھا‘‘۔

مغربی کنارے کی یہودی بستیوں کے آس پاس بفر اور سیف زونز بنانے کے وزیر کے مطالبے پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ فلسطینی حلقوں کی طرف سے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کا مقصد فلسطینیوں کی مزید اراضی کو چرانا، اسے موجودہ کالونیوں اور بے ترتیب چوکیوں سے جوڑنا، اور بستیوں کو گہرا اور وسیع کرنا اور فلسطینی ریاست کے قیام کے تمام امکانات کو ختم کرنا ہے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ غزہ میں گذشتہ سات اکتوبر کو اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے کئی بار غزہ کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب مصر نے فلسطینیوں کو بے گھر کرنے اور انہیں جزیرہ نما سینا کی طرف دھکیلنے کے اسرائیلی عزائم پر خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں