2023 میں شام کی خانہ جنگی میں 4,360 سے زیادہ ہلاک: مانیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک جنگی نگران نے اتوار کو بتایا کہ شام کی خانہ جنگی میں لڑائی شروع ہونے کے تیرہویں سال میں 2023 میں جنگجوؤں اور عام شہریوں سمیت 4,360 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔

یہ تعداد 2022 کی تعداد سے زیادہ ہے جب 3,825 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ 2011 میں جمہوریت کے حامی پرامن مظاہروں پر حکومت کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے ساتھ جو تنازع شروع ہوا، اس میں اس وقت سے اب تک یہ سب سے کم سالانہ ہلاکتیں تھیں۔

برطانیہ میں قائم آبزرویٹری جس کے پاس شام کے اندر ذرائع کا نیٹ ورک ہے، کے مطابق اس سال کی گنتی میں 1,889 شہری شامل ہیں جن میں سے 241 خواتین اور 307 بچے ہیں۔

شامی حکومتی افواج نے اس سال ہلاک شدگان میں سے تقریباً 900 کا حساب دیا جن میں دیگر جنگجو کے ساتھ کرد کے زیرِ قیادت اور امریکی حمایت یافتہ شامی جمہوری افواج، ایران نواز گروپ، انتہا پسند دھڑے، داعش کے دہشت گرد اور غیر ملکی جنگجو شامل ہیں۔

برسوں میں ملک کا تنازعہ ڈرامائی طور پر پھیل گیا۔ اس تنازعے نے غیر ملکی افواج، ملیشیاؤں اور انتہا پسندوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، 500,000 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور ملک کا بنیادی ڈھانچہ اور صنعت تباہ ہو گئی۔

دمشق نے ایرانی اور روسی حمایت کے ساتھ تنازعہ میں اس سے پہلے کھویا ہوا زیادہ تر علاقہ واپس لے لیا ہے حالانکہ ملک کے شمال کے بڑے حصے بدستور حکومتی کنٹرول سے باہر ہیں۔

حالیہ برسوں میں ہراول دستے زیادہ تر خاموش ہو گئے ہیں اور سالانہ اموات کی تعداد نچلی سطح تک گر گئی ہے۔

اس کے باوجود تشدد جاری ہے۔ آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ ہفتے کے روز ادلب شہر میں "رہائشی علاقوں اور ایک بازار" پر حکومتی بمباری میں ایک جنگجو اور ایک بچے سمیت متعدد افراد جاں بحق ہو گئے۔

القاعدہ کی سابق شامی شاخ کے زیرِ قیادت ایک دہشت گرد گروپ حیات تحریر الشام صوبہ ادلب اور ہمسایہ حلب، حما اور الاذقیہ صوبوں کے کچھ حصوں پر کنٹرول کرتا ہے۔ الاذقیہ شام میں مسلح اپوزیشن کا آخری بڑا گڑھ ہے۔

مارچ 2020 میں شامی حکومت کے حملے کے بعد ادلب میں روس اور ترکی کی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کی بار بار خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔

آبزرویٹری نے کہا کہ ہفتے کے روز مشرقی شام میں "ممکنہ طور پر" اسرائیل کی طرف سے کیے گئے فضائی حملوں میں 25 ایران نواز مزاحمت کار جان سے گئے۔ پہلے کی تعداد 23 تھی۔

آبزرویٹری نے کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں پانچ شامی، چھ عراقی جنگجو، چار لبنانی حزب اللہ گروپ کے اور دس دیگر غیر شامی جنگجو شامل تھے۔

اسرائیل جس نے جنگ شروع ہونے کے بعد شام کی سرزمین پر سینکڑوں حملے کیے ہیں، انفرادی حملوں پر شاذ و نادر ہی تبصرہ کرتا ہے لیکن بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ وہ اپنے سخت دشمن ایران کو شام میں اپنی موجودگی نہیں بڑھانے دے گا۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر سے حماس کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے شام میں اپنے حملے تیز کر دیئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں