مشرق وسطیٰ

غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سلیمانی اور قاآنی کی کوششوں کا ثمر ہے: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا کہنا ہے ’’کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ قاسم سلیمانی اور اسماعیل قاآنی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔‘‘

انہوں نے قاسم سلیمانی کے اہل خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ قاسم سلیمانی کا سب سے اہم کردار اور خدمات "مزاحمتی محاذ کو زندہ کرنا" ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق علی خامنہ ای نے مزید کہا کہ "غزہ میں تقریباً تین ماہ سے جاری مزاحمت مزاحمتی محاذ کی موجودگی کی وجہ سے ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "قاسم سلیمانی نے مزاحمتی محاذ کو بحال کرنے کی بھرپور کوشش کی"۔

ایرانی رہ نما نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی کمان سنبھالنے والے اسماعیل قاآنی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ مزاحمتی محاذ کو مضبوط کرنے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

سلیمانی کا بدلہ اور ایرانی پسپائی

یہ بیانات ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان رمضان شریف کے اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے "طوفان الاقصیٰ" آپریشن پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کے جواب میں کیا گیا ہے تاہم حماس نے اس کی ترید کی تھی۔ بعد ازاں ایرانی حکام نے بھی اس بیان کو رد کردیا تھا۔

انہوں نے قبل ازیں ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ سات اکتوبر کے واقعات سلیمانی کے قتل کی انتقامی کارروائیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے تل ابیب کو پاسداران انقلاب کے ایک سینیر جنرل رضی موسوی کے شام میں قتل کے نتائج سے بھی خبردار کیا۔

دریں اثنا ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی نے جمعرات کے روز کہا کہ حماس کی طرف سے گذشتہ سات اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف شروع کئے گئے "طوفان الا اقصیٰ" آپریشن "مکمل طور پر فلسطینی" تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں