ٹونی بلیئرکے فلسطینیوں کے رضا کارانہ انخلاء میں ’کردار‘ پر فلسطین کا سخت رد عمل

غزہ سے فلسطینیوں کے جبری یا رضاکارانہ انخلاء کا مشن فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور ہوگی:وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطین کےعلاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے حماس کے خلاف شروع کی گئی جنگ کے دوران غزہ کے باشندوں کی نقل مکانی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق سابق برطانوی وزیراعظم ’ٹونی بلیئر‘ اس حوالے سے مبینہ کردار ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دوسری طرف غزہ میں جنگ بندی کا فی الحال کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

"رضاکارانہ انخلاء مشن"

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے بعد کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے گذشتہ ہفتے تل ابیب کا دورہ کیا اور غزہ پر جنگ کے بعد کے حوالے سے کئی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں غزہ جنگ کے بعد کے حالات اور غزہ سے فلسطینیوں کے رضا کارانہ انخلاء پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اس حوالے سے فلسطینیوں کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں کہا کہ وہ ٹونی بلیئر کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینی عوام کے مبینہ رضاکارانہ انخلاء کے لیے مشن سنبھالنے کی خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وہ بڑی دلچسپی کے ساتھ عبرانی میڈیا کی طرف سے ٹونی بلیئر کے غزہ کی پٹی سے فلسطینی شہریوں کے رضاکارانہ انخلاء کے لیے کام کرنے والی ٹیم کی صدارت سنبھالنے اور متعدد افراد کے ساتھ ملاقاتیں اور مشاورت کرنے کے حوالے سے رپورٹس کی پیروی کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ ٹونی بلیئر کی طرف سے دوسرے ممالک سے فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے ہاں پناہ دینے کے حوالے سے ان کا موقف معلوم کرنے کی بات پر غورکر رہے ہیں۔ بلیئرکی کوششوں کو اسرائیلی وزیراعظم اور وزیر برائے قومی سلامتی کی طرف سے سراہا گیا ہے۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بلیئر اس جرم کے ارتکاب میں ملوث نہیں ہوں گے، جو کہ اسرائیلی حکومت کے فلسطینیوں کی نسل کشی اور جبری بے گھر ہونے کے منصوبے کے دائرہ کار میں آتا ہے۔

وزارت خارجہ نے اس بات پر زوردیا کہ یہ عمل اگر سچ ہے اور خبر درست ہے تو اسے فلسطینی عوام اور ان کے وطن میں ان کے حقوق کے خلاف، بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی، انسانیت کے خلاف اور فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی کے طور پر دیکھا جائےگا۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان کے اختتام پرکہا کہ وہ عرب، مسلمان اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر اس سنگین مسئلے کے حل اور فلسطینیوں کے جبری اور رضا کارانہ انخلاء کو روکیں گے۔

غزہ کے بعد کیا ہوگا

یہ بات قابل ذکر ہے کہ عبرانی چینل 12 نے رپورٹ نشر کی تھی کہ ٹونی بلیئرنے گذشتہ ہفتے تل ابیب کا دورہ کیا تھا اور غزہ پر جنگ کے "بعد کے دن" کے حوالے سے کئی ملاقاتیں کی تھیں۔

ٹی وی چینل کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹونی بلیئر غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کے رضا کارانہ انخلاء کے حوالے سے خطے کے ممالک سے انہیں پناہ دینے پر بات کریں گے۔

ٹی وی چینل نے بلیئر کی جانب سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹس غلط ہیں اور ان کا غزہ کے رہائشیوں کی رضاکارانہ نقل مکانی سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں