اسرائیلی فوج نے قید کیے گئے فلسطینی کے مبینہ قاتل فوجی سے تحقیقات شروع کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہی ایک فوجی کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے جس پر فلسطینی قیدی کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ فلسطینی قیدی کو غزہ کے آپریشن کے دوران اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا تھا۔

اس فلسطینی قیدی کو اس زیر تفتیش فوجی کے حوالے کیا گیا تھا۔ اس دوران فلسطینی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔ فوجی بیان کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا تھا۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کی طرف سے مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دینے کے علاوہ بین الاقوامی جنگی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا بھی قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیل جس کے ہاتھوں غزہ میں 22 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ جن کی اکثریت بچوں اور عورتوں پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ جنگی قوانین کا خیال رکھنے والا ایک ملک ہے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کے بعد حراست میں لیے گئے سینکڑوں فلسطینیوں کو تفتیش ککے دوران ہلاک کیا ہے۔

پچھلے ماہ فلسطینی مزاحمتی گروپ نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ اسرائیلی قید میں موجود فلسطینی قیدیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی جائیں لیکن اسرائیل نے اس طرح کے واقعات سے لاعلمی ظاہر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں