فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی وزیر کا آبادکاروں کی غزہ واپسی کا مطالبہ، فلسطینیوں کی ہجرت کی حوصلہ افزائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک اسرائیلی وزیر نے پیر کے روز غزہ میں آباد کاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فلسطینیوں کو وہاں سے نکل جانے کی ترغیب ملنی چاہیے۔ ان کا یہ تبصرہ ایک اور انتہائی دائیں بازو کے سیاست دان کے اسی قسم کے تبصرے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

غزہ کی پٹی کے حماس کے حکمرانوں کے ساتھ اسرائیل کی جنگ جاری ہے تو اسرائیل کے قومی سلامتی کے آتش مزاج وزیر ایتمار بن گویر نے کہا، "ہمیں غزہ کے رہائشیوں کی ہجرت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ایک حل کو فروغ دینا چاہیے۔"

اسرائیل نے یکطرفہ طور پر 2005 میں اپنے آخری فوجیوں اور آباد کاروں کو واپس بلا لیا تھا جس سے غزہ کے اندر اس کی 1967 میں شروع ہونے والی موجودگی ختم ہو گئی تھی لیکن اس نے علاقے کی سرحدوں پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا تھا۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی زیرِ قیادت حکومت نے 7 اکتوبر کو موجودہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے سرکاری طور پر ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ غزہ کے لوگوں کو نکالنے یا یہودی آباد کاروں کو علاقے میں واپس بھیجنے کا ان کا کوئی منصوبہ ہے۔

لیکن بین گویر نے استدلال کیا کہ فلسطینیوں کا نکل جانا اور اسرائیلی بستیوں کا دوبارہ قیام "ایک درست، منصفانہ، اخلاقی اور انسانی حل ہے"۔

انہوں نے اپنی انتہائی قوم پرست اوزما یہودیت یا "یہودی طاقت" پارٹی کے ایک اجلاس کو بتایا، "یہ ایک موقع ہے کہ غزہ کے باشندوں کو دنیا بھر کے ممالک میں ہجرت کرنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک پروجیکٹ تیار کیا جائے۔"

بین گویر کا یہ تبصرہ اس دن سامنے آیا جب انتہائی دائیں بازو کے وزیرِ خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے بھی غزہ میں آباد کاروں کی واپسی کا مطالبہ کیا اور یکساں طور پر کہا کہ اسرائیل کو اس علاقے کے تقریباً 2.4 ملین فلسطینیوں کے چلے جانے کی "حوصلہ افزائی" کرنی چاہیے۔

سموٹریچ نے کہا کہ اسرائیل کے "علاقے کو طویل عرصے تک فوجی طور پر کنٹرول کرنے کے لیے ہمیں سویلین موجودگی کی ضرورت ہے"۔

بین گویر اور سموٹریچ دونوں مقبوضہ مغربی کنارے کی بستیوں میں رہتے ہیں جنہیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

حماس نے اتوار کے روز سموٹریچ کے تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے اسے "ناگوار تضحیک اور جنگی جرم" قرار دیا اور مزید کہا کہ غزہ کے لوگ "انہیں ان کی زمین اور گھروں سے بے دخل کرنے کی تمام کوششوں کے مقابلے میں ثابت قدم اور غیر متزلزل رہیں گے۔"

7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جاری جارحیت جس کا مقصد حماس کو تباہ کرنا ہے، میں غزہ میں کم از کم 21,978 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شدید لڑائی جاری رہنے کے ساتھ محصور غزہ کی پٹی میں 85 فیصد لوگ اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں