فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل جنگ کے دوران ہی 70000 غیر ملکیوں کو ملازمت کے لیے اسرائیل لائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل جس نے اپنے ہزاروں ریزرو فوجیوں کو یکم جنوری 2024 کو غزہ سے واپس بلا کر آرام اور تربیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ بھارت ، سری لنکا اور چین سے 70 ہزار افراد کو اسرائیل لا کر ملازمت دے گا۔

اسرائیل نے اپنی جنگ ززدہ معیشت کے باوجود ان کارکنوں کو بیرون ملک سے لانے کا ' رسک' لیا ہے۔ بظاہر اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کو اسرائیل میں تعمیراتی شعبے کے لیے لایا جا رہا ہے۔

لیکن کیا جنگی حالات اور جنگ زدہ معیشت کے ساتھ اسرائیل اتنا مالی بوجھ اٹھانا چاہے گا یا ان غیر ملکیوں کو کسی اور مقصد یعنی امریکی سول کنٹریکٹرز کے انداز میں بروئے کار لانا چاہتا ہے۔؟

یہودہ مور گنسٹرن اسرائیلی تعمیراتی اور ہاؤسنگ کی وزارت میں ڈی جی ہیں۔ جنہیں اس اسائنمنٹ کے لیے آگے لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد 50 ہزار سے بڑھا کر 70 ہزار کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

تاہم یہ ایک غیر معمولی فیصلہ ہے۔ کہ پہلے ماہ نومبر میں ہی غیر ملکی کارکنوں کی تعداد 30 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار کی گئی اور دسمبر میں یہ تعداد 50 ہزار کے بجائے 70 ہزار کر دی گئی۔ اس کا جواز فلسطینی کارکنوں کو اسرائیلی تعمیراتی شعبے کے لیے اب دستیاب نہ رہنے کی وجہ سے کرنا پڑا ہے۔

مور گنسٹرن نے ایک دلچسپ انکشاف یہ کیا ہے کہ ان میں سے بیس ہزار غیر ملکیوں کودو طرفہ معادوں کے بغیر لایا جائے گا۔ جبکہ پہلی سہ ماہی میں بھارت ، سری لنکا اور چین کے باشندے 10 ہزار کی تعداد میں اسرائیل آئیں گے۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلے مرحلے پر اسرائیل فلسطینیوں میں سے بھی کارکنوں کی بھرتیاں کر کے انہیں اسرائیلی ترقی و استحکام کے لیے کردار کرنے کا کہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں