اسرائیل: نیتن یاہو کی مقبولیت کاگراف انتہائی گرگیا،بعدازجنگ 15 فیصد یاہو حکومت کےحامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی عوامی مقبولیت تیزی سے گراوٹ کا شکار ہورہی ہے۔ اسرائیلی عوام کی صرف پندرہ فیصد تعداد اس بات کے حق میں ہے کہ غزہ کی جنگ کے خاتمے کے بعد بھی نیتن یاہو ہی حکومت کی قیادت کرتے رہیں۔ یہ بات 'اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ' کے تازہ ترین سروے کے دوران سامنے آئی ہے۔

مقبولیت کا یہ گراف اس کے باوجود نیچے کی طرف سے جارہا کہ بہت سارے لوگ اس کی حماس اور غزہ کے بارے میں تباہ کن حکمت عملی کے حامی ہیں۔

نیتن یاہو نے اسرائیلی عوام سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ حماس کو تباہ کر کے چھوڑیں گے۔ نیز اسرائیلی یرغمالیوں کو جلد رہا کرائیں گے۔ تاہم اب تقریبا تین ماہ ہونے کو ہونے کو ہیں اور یاہو کہہ رہے ہیں کہ 129 یرغمالیوں کو چھڑانے اور حماس کے مکمل خاتمے کے لیے انہیں ایک لمبی جنگ لڑنا ہوگی۔

سروے کرنے والے ادارے کے مطابق 56 فیصد نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے مذاکرات کو بہترین طریقہ کہا ہے۔

جبکہ 24 فیصد اسرائیلیوں کے نزدیک بہترین راستہ یرغمالیوں اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی ایک ڈیل کے تحت رہائی بہترین طریقہ ہو گا۔

اس سروے کے مطابق صرف پندرہ فیصد اسرائیلی نیتن یاہو کو غزہ میں جنگ کے بعد بھی بر سر اقتدار دیکھنے پر راضی ہیں۔ 23 فیصد چاہتے ہیں کہ بینی گنٹز برسراقتدار آئے جبکہ 30 فیصد نے خاص کسی کا نام نہیں لیا۔ 25 دسمبر سے 28 دسمبر تک ہونے والے سروے میں 746 جوابات آئے۔ واضح رہے غزہ میں سات اکتوبر سے اب تک 22000 سے زائد فلسطینی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں