فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل نے حماس کی طرف سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے تجاویز مسترد کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ذرائع نے منگل کو عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے سست طریقہ کار کے مطابق ایک ماہ سے زیادہ کی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اسرائیلی جنگی کونسل نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ حماس ہر دن کے پرسکون رہنے کے بدلے ایک اسرائیلی قیدی کو رہا کرنا چاہتی ہے۔ حماس نے مستقل جنگ بندی کی شرط کو ترک کرتے ہوئے اس کی جگہ یہ شرط رکھی کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے انخلاء کرے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں 40 سے 50 اسرائیلی قیدیوں کو 1 کے بدلے 3 فارمولے میں رہا کیا جائے گا۔

ذرائع نے وضاحت کی کہ حماس نے قطری اور مصری ثالثوں کو اپنے موقف سے آگاہ کیا، جب کہ فریقین نے حماس کے ردعمل سے اسرائیل کو آگاہ کیا۔

امریکی نیوز سائٹ Axios نے اسرائیلی حکام اور ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ تحریک حماس نے غزہ کی پٹی میں تقریباً تین ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوشش میں قیدیوں کے تبادلے کے ایک نئے معاہدے کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے۔

"اسرائیل نے تجویز مسترد کر دی"

امریکی ویب سائٹ نے پیر کے روز اسرائیلی حکام میں سے ایک کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے اس تجویز کو مسترد کر دیا، لیکن حماس اب یرغمالیوں کے تبادلے کے نئے معاہدے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔اب حماس نے غزہ میں جنگ روکنے کی تجویز بھی پیش نہیں کی۔

دونوں اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ حماس نے یہ معاہدہ قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے پیش کیا۔

تجویز کی تفصیلات

ان میں سے ایک نے تجویز کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تین مراحل پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک میں متعدد قیدیوں کی رہائی کے بدلے ایک ماہ سے زائد عرصے تک لڑائی روکنا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "نئی تجویز میں اسرائیل کی جانب سے پہلے مرحلے کے دوران غزہ سے اپنی افواج کو نکالنا شروع کرنا شامل ہے، جس میں حماس کے زیر حراست تقریباً 40 قیدیوں کی رہائی اور کچھ فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں