فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کابین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے نسل کشی کے الزامات کا سامنا کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار’ ہارٹز‘ نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے جنوبی افریقہ کی طرف سے لائے گئے نسل کشی کے الزامات کا سامنا کرنے کے لیے دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار نے کہا کہ حکومت نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کے اختتام پر وزارت انصاف، اسرائیلی فوج اور قومی سلامتی کونسل کے درمیان ہونے والی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اسرائیل عالمی عدالت کو روکنے کی کوشش کرے گا۔

گذشتہ جمعہ کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف غزہ کی پٹی میں "نسل کشی" کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ دائر کیا ہے۔

’ہارٹز‘ نے کل اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی اٹارنی جنرل کا دفتر اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگانے کے امکان پر تشویش کا شکار ہے۔ اخبار نے ایک سینیر قانونی ماہر کے حوالے سے کہا ہے کہ فوجی اہلکاروں بشمول چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی کو خبردار کیا ہے کہ عالمی عدالت اسرائیل سے فائر بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالتی حکم جاری کرے گی۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری جو کہ 27 اکتوبر سے زمینی کارروائیوں کے ساتھ جاری ہے کے نتیجے میں کم از کم 21,978 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

غزہ میں حماس کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک 57,697 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں زیادہ تر ہسپتال تباہ یا غیر فعال ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی کی 2.4 ملین آبادی کے 85 فیصد سے زائد کے بے گھر ہونے کی تصدیق کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں