مشرق وسطیٰ

بیروت میں قتل ہونے والے حماس اور حزب اللہ کے اہم رابطہ کار صالح العاروری کون تھے؟

اسرائیل نے انہیں 2010 میں رہا کرنے کے بعد تین سال کے لیے شام جلا وطن کر دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں حماس کے سینئر عہدیدار صالح العاروری کو قتل کر دیا گیا۔ تنظیم کے سینئر رہنما کو حزب اللہ اور حماس کے درمیان اہم رابطہ کار کے طور پر جانا جاتا تھا۔

العاروری حماس کے پولیٹیکل بیورو کے ڈپٹی چیئرمین اور مغربی کنارے میں تنظیم کے مسلح ونگ کے بانی رکن تھے۔ انہیں حماس کا نائب سربراہ سمجھا جا سکتا ہے۔

وہ 19 اگست 1966 کو پیدا ہوئے، ان کا تعلق العارورہ نامی گاؤں سے تھا جو رام اللہ کے قریب واقع ہے۔

انہوں نے 1987میں الخليل یونیورسٹی میں حماس میں شمولیت اختیار کر کے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد میں وہ تحریک کے فوجی ونگ القسام بریگیڈ کے بانیوں میں سے ایک بنے۔

العاروری کو اسرائیل نے متعدد بار گرفتار کیا جن میں 1985 سے 1992 اور 1992 اور 2007 کے درمیان طویل عرصے تک حراست شامل ہے۔ کل ملا کر ان کی حراست کا دورانیہ 19 برس بنتا ہے۔

اسرائیل نے انہیں 2010 میں رہا کرنے کے بعد تین سال کے لیے شام جلا وطن کر دیا تھا۔

2014 میں ان کا العارورہ گاؤں میں واقع گھر اسرائیلی فوجوں نے تباہ کر دیا تھا۔

2017 میں وہ حماس پولیٹیکل بیورو کے ڈپٹی ہیڈ مقرر ہوئے۔

العاروری بیروت کے اندر نسبتا آزادانہ طور پر رہتے تھے، لیکن انہیں 2015 میں امریکہ نے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر کے ان کی گرفتاری پر 50 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر دیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق العاروری سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے شروع کرنے سے قبل ہی اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے ہدف تھے۔

اکتوبر کے اوائل سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے آغاز سے ہی حماس کی حامی تنظیم حزب اللہ اور اسرائیلی فورسز کے درمیان لبنان کی جنوبی سرحد پر جھڑییں ہو رہی ہیں۔

حزب اللہ اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں اور شیلنگ میں اب تک حزب اللہ کے 100 جنگجوؤں جبکہ بچوں سمیت دو درجن کے لگ بھگ شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

منگل کے روز اسرائیل کی جانب سے ان کا قتل ایک سنگین واقعہ ہے، اور آنے والے دنوں میں دیکھنا ہو گا حماس اور حزب اللہ کی جانب سے اس پر کیا ردِ عمل سامنے آتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں