فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کے خلاف اسرائیلی جنگ کے دوران حوثیوں کے رد عمل پر ایران حوثیوں کا شکر گذار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے ایرانی دورے پر آئے یمنی حوثی رہنما کا شکریہ ادا کیا کہ حوثیوں نے غزہ میں اسرائیلی جنگ پر اچھا رد عمل ظاہر کر رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس امر کا اظہار حوثیوں کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار اور ترجمان کے ساتھ تہران میں ہونے والی ملاقات کے دوران کیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا' حوثیوں نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مضبوط اور محکم پوزیشن لی۔' اس پر حسین امیر نے حوثیوں کے لیے ایران کی طرف سے تشکر کے جذبات اور کلمات کا اظہار کیا۔

واضح رہے حوثی یمن کے ایک ایرانی حمات یافتہ گروپ کے طور پر مشہور ہے۔ اس نے 2014 میں یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا، اب ملک کے بڑے حصے پر اس کا کنٹرول ہے۔

اس حوثی مزاحمتی گروپ اور ایران ہی کے حمایت یافتہ ایک دوسرے گروپ لبنانی حزب اللہ نے نے ماہ اکتوبر سے مسلسل حماس کی حمایت میں اسرائیل اور اس کے بڑوں کو اپنے ڈرونز کے نشانے پر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔

ماہ نومبر سے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں بحیرہ احمر کو بھی لے لیا ہے۔ جس کے نتیجے میں اسرائیل کو بحر احمر کے راستے اشیاء کی ترسیل متاثر ہوئی۔ جبکہ مجموعی طور پر عالمی تجارت و ترسیل 12 فیصد تک متاثر ہو گئی۔

ایک اعلیٰ حوثی رہنما کا ایرانی دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب یہ اطلاعات عالمی ذرائع ابلاغ اور عسکری و سفارتی سطحوں پر زیر گردش ہیں کہ ایرانی بحری جنگی جہاز ' البارز' باب المندب سے گذر کر بحیرہ احمر میں داخل ہو رہا ہے۔ جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب کے بریگیڈئیر جنرل سید رضی موسوی کی اسرائیلی بمباری سے شام میں ہلاکت ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں