فلسطین اسرائیل تنازع

حماس کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کا کوئی امکان نہیں: اسرائیلی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک اسرائیلی اہلکار نے کل سوموارکو انکشاف کیا کہ تل ابیب اور حماس کے درمیان کسی معاہدے کے قریب آنے کے کوئی اشارے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی تحریک کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے نئے معاہدے کو مکمل کرنے کے مطالبات مبالغہ آرائی پر مبنی معلوم ہوتے ہیں۔ اسرائیل ان مطالبات کو قبول نہیں کرے گا۔

اسرائیلی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ قطری ثالث کی جانب سے موصول ہونے والے جوابات دونوں فریقوں کے درمیان کسی قریبی معاہدے تک پہنچنے کے امکان کی نشاندہی نہیں کرتے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ ’حماس خیالی شرائط طے کرتی ہے اور اسرائیل انہیں ماننے کے لیے تیار نہیں‘۔

نیا ردعمل

گذشتہ ہفتے اسرائیلی جنگی کونسل نے قطری ثالث کی طرف سے فراہم کردہ ابتدائی جوابات پر بحث کی، جو دوبارہ حماس کے پاس واپس آئے اور ان کی جانب سے نئے جوابات سنے اور انہیں اسرائیل تک پہنچایا۔

اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ "معاملہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے جتنا ہم نے سوچا تھا۔ حماس دوبارہ فوجی کارروائیوں کو روکنے کا مطالبہ کر رہی ہے تو یہ نہیں کیا جا سکتا۔"

حماس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی

کل سوموار کو حماس کے ایک ذریعے نے العربیہ/الحدث کو تصدیق کی کہ ان کی جماعت کا موقف وہی ہے۔ جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کرین گے۔

ذریعے نے وضاحت کی کہ حماس کا ایک وفد جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت کے لیے قاہرہ میں ہے، جہاں مذاکرات جاری ہیں۔

کئی دنوں سے حماس اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے بدلے پوری محصور پٹی میں ایک جامع اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

جب کہ تل ابیب اس شرط کو مسترد کرتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے مکمل خاتمے سے پہلے جنگ کے لیے کوئی معاہدہ نہیں کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں