غزہ جنگ کا ایک نیا مرحلہ،شہریوں کی شمالی غزہ کی طرف واپسی پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ کے ایک نئے مرحلے کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کے روز کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو شمالی پٹی میں واپس جانے کی اجازت نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارا پہلا مشن اپنے باشندوں کو غزہ کی پٹی کے اطراف میں بہ حفاظت واپس لوٹانا ہے"۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ کو کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ یہ جنگ جلدی ختم ہونے والی نہیں۔

خیال رہے کہ سات اکتوبر سے جاری جنگ نے پٹی کے بیشتر حصے کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا ہے اور ہزاروں جانیں لے لی ہیں۔ 2.3 ملین کی آبادی کو ایک انسانی تباہی میں ڈال دیا ہے۔

اسرائیل نے اس نے جنگ کے ایک نئے مرحلے کا اشارہ بھی دیا۔ ایک اہلکار نے پیر کو کہا کہ فوج اس ماہ غزہ میں اپنی تعداد کو کم کردے گی اور "کلیئرنس" آپریشن کے ایک ماہ طویل مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔

اہلکارنے مزید کہا کہ فوجی دستوں میں کمی سے کچھ ریزرو فوجیوں کو شہری زندگی میں واپس آنے کا موقع ملے گا، جنگ سے تباہ ہونے والی اسرائیلی معیشت کو سہارا ملے گا، جبکہ شمال میں لبنانی حزب اللہ گروپ کے ساتھ وسیع جنگ کے تناظر میں تیاری کا موقع ملے گا۔

بمباری اور دراندازی

ابتدائی بمباری کی کارروائیوں اور پھر 27 اکتوبر کو شروع ہونے والی زمینی دراندازی کے بعد غزہ میں لڑائی کے ایک نئے مرحلے میں اسرائیل کی منتقلی دیکھی جا رہی ہے۔

اس عرصے کے دوران پورے غزہ پر فضائی اور توپ خانے کے حملے جاری رہے، جس کے نتیجے میں اس کا بڑا علاقہ تباہ ہو گیا۔

دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ وہ جنگ کے آغاز کے 12 ہفتے بعد بھی اسرائیل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیونکہ اس نے نئے سال کی پہلی رات کے وقت تل ابیب پر راکٹوں کا ایک بیراج فائر کیا ہے۔

یہ جنگ 7 اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد شروع ہوئی، جس میں اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 1200 افراد ہلاک ہوئے۔ غزہ کی پٹی میں فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں 21,978 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں