غزہ کے قبائل نے تقسیم اور انتظام کا اسرائیلی منصوبہ مسترد کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کے قبائلی عمائدین نے اسرائیل کی طرف سے غزہ کو تقسیم کرنے اور اس کے انتظامی امور کے حوالے سے سامنے آنے والے مشکوک بیانات کو مسترد کردیا ہے۔ قبائلی سرداروں کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی کے تمام قبائل متحد ہیں اور وہ قبائل کے درمیان تقسیم پیدا کرنے، غزہ کو تقسیم کرنے یا انتظامی امور کی آڑ میں قبایل کےدرمیان دراڑیں پیدا کرنے کسی بھی کوشش کو ناکام بنائیں گے۔

غزہ کی پٹی میں فلسطینی قبائل کی سپریم اتھارٹی کے سربراہ عاکف المصری نے کہا کہ اس طرح کے ناقابل قبول اور مشکوک بیانات، جن کے ذریعے قابض ریاست غزہ میں اپنی ناکامی کو چھپانے، فلسطینی معاشرے میں انتشار اور تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہے قطعی طور پر ناقابل قبول ہیں"۔

فلسطینی ’معا‘ ایجنسی نے فلسطینی قبائل کے صدرکے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلسطینی قبائل اور خاندان فلسطینی مزاحمت کے لیے عوامی طور پرحامی ہیں۔ فلسطینی مزاحمت نے قابض فوج کو غزہ کی ریت میں ناک رگڑنے پرمجبور کیا ہے۔

المصری نے کہا کہ"ہم ایک ایسا قومی فیصلہ قبول کریں گے جس میں فلسطینیوں کی قربانیاں رنگ لائیں۔ تقسیم کا خاتمہ ہو اور ایک متحد قومی قیادت اور ایک متحد حکومت کی تشکیل دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ دشمن کی جارحیت کا خاتمہ ممکن ہو۔

قبائلی عمائدین نے تمام فلسطینی، عرب اور بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں نسل کشی کی جنگ کو روکنے کے لیے فوری اقدام کریں، انسانی امداد ، طبی امدادی اور بنیادی ضرورت کے سامان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

خیال رہے کہ منگل کو اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے کہا تھا کہ فوج نے غزہ کی پٹی کے رہائشیوں میں انسانی امداد کی تقسیم کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے مطابق مقامی طور پر "حمائل" کے نام سے مشہور بڑے خاندان اس انسانی امداد کا انتظام اور تقسیم کریں گے۔

اسرائیلی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق یہ منصوبہ منظوری کے لیے آج سلامتی کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں