فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیل کی کانگو اور دیگر ممالک سے غزہ کے مہاجرین کے لیے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آج بدھ کو اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ نے منی کابینہ کے ایک سینیر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے "تارکین وطن کو قبول" کرنے کے لیے کانگو اور دیگر ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

ذریعے نے کہا کہ "کانگو تارکین وطن کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائے گا۔ ہم دوسرے ممالک کے ساتھ بھی بات چیت کر رہے ہیں۔" ذرائع نے ان دیگر ممالک کا ذکر نہیں کیا جن کے ساتھ اسرائیل اس سلسلے میں بات چیت کر رہا ہے۔

اخبارنے اسرائیلی انٹیلی جنس وزیر گیلا گاملیئل کا حوالہ دیتے ہوئے کل کنیسٹ سے کہا کہ “جنگ کے اختتام پر حماس کی حکمرانی ختم ہو جائے گی وہاں کوئی میونسپل حکام نہیں ہوں گے۔ شہری آبادی مکمل طور پر انسانی امداد پر انحصار کرے گی اور غزہ کی 60 فی صد زرعی زمین علاقوں کو بفر زون میں تبدیل کردیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل پر مزید حملے کرنا اب عارضی اور مختصر صرف وقت کی بات رہ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ کا مسئلہ اکیلے ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ دنیا کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امیگریشن (غزہ کی پٹی سے نقل مکانی) کی حمایت کرنی چاہیے، کیونکہ یہ واحد حل ہے جسے میں جانتی ہوں۔"

اسرائیل سات اکتوبر کو حماس کے سرحد پار دراندازی کی کارروائی کے بعد نے غزہ کی پٹی پر اپنی جنگ جاری رکھی ہوئے ہے جس میں بڑے پیمانے پر اموات ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں