العاروری کا قتل لبنان کی خودمختاری پرحملہ ہے: اسماعیل ھنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہےکہ منگل کے روز اسرائیلی ڈرون حملے میں حماس کے رہ نما صالح العاروری کی ہلاکت لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور کھلم کھلا دہشت گردی کی کارروائی ہے۔

حماس کے رہ نما صالح العاروری منگل کے روز بیروت کے مضافات میں الضاحیہ الجنوبیہ میں حماس کےدفتر پر ڈرون حملے میں اپنے کئی ساتھیوں سمیت مارےگئے تھے۔

لبنان کے ایک سینیرسکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں العاروری اپنے متعدد ساتھیوں سمیت مارے گئے۔ تاہم ان کی تعداد نہیں بتائی گئی۔ ایک اور سکیورٹی ذرائع نے ان معلومات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نشانہ بننے والی عمارت کی دو منزلوں کو نقصان پہنچا ہے، اس کے علاوہ کم از کم ایک کار تباہ ہوئی ہے۔

قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات کے حوالے سے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے منگل کو کہا تھا کہ ان کی جماعت مزاحمتی تنظٰموں کی پیش کردہ شرائط کے علاوہ غزہ کی پٹی میں کسی بھی قیدی کو رہا نہیں کرے گی۔

ہنیہ نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں کہا کہ "اسرائیل کے قیدیوں کو مزاحمت کی شرائط کے علاوہ رہا نہیں کیا جائے گا"۔ انہوں نے کہا کہ"مزاحمت اب بھی ٹھیک اور عروج پر ہے اور مزاحمت کار اور ان کی قیادت سب محفوظ ہیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل نے مزاحمت کو بڑھانے سے روکنے کے لیے مرکوز فوجی کارروائیوں کے لیے تیسرے مرحلے میں منتقلی کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے، لیکن اسے مزاحمت کے ہاتھوں شکست ہوگی۔

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی پٹی میں کوئی افراتفری یا خلا نہیں ہوگا کیونکہ پولیس ایجنسیاں اور حکومتی ادارے، خاص طور پر طبی عملہ اور شہری دفاع، دستیاب صلاحیتوں کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں"۔

ہنیہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان کی جماعت نے "مصر اور قطر کے سامنے اپنا موقف اور نقطہ نظر پیش کیا ہے جس کی بنیاد جارحیت کے جامع خاتمے اور ہمارے لوگوں کے جائز مطالبات پورے کرنا ہے"۔

قبل ازیں حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی بات چیت سے واقف فلسطینی ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ حماس نے مستقل جنگ بندی کی شرط کو ترک کر دیا ہے۔ اس نے ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی اور مرحلہ وار قیدیوں کی رہائی کی تجویز پیش کی ہے۔ حماس جنگ بندی کے ایک ماہ کے عرصے کے دوران چالیس اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گی۔

تازہ ترین میدانی پیش رفت میں غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے منگل کے روز کہا کہ 7 اکتوبر سے پٹی میں مرنے والوں کی تعداد 22,185 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی تعداد تقریباً 57,000 تک پہنچ گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں