العاروری کے قتل کے اگلے دن موساد کا حماس کے تمام رہ نماؤں کو ہلاک کرنے کا عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی خفیہ ادارے ’موساد‘ کے سربراہ نے بدھ کے روز عہد کیا ہے کہ انٹیلی جنس سروس حماس کے تمام رہ نماؤں تک پہنچے گی اور ان سب کو قتل کرے گی۔ موساد کے چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کے روز اسرائیل نے بیروت میں حماس کے سیاسی شعبے کے نائب صدر صالح العاروری کو ان کے چھ ساتھیوں سمیت قتل کردیا تھا۔

موساد کے سربراہ ’ڈیوڈ بارنیا‘ نے کہا کہ انٹیلی جنس سروس "7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی کے اطراف میں پہنچنے والوں کے ساتھ اور حماس کی قیادت کے ساتھ ’حساب چکانے‘ کے لیے پرعزم ہے"۔

ارنیا نے مزید کہا کہ "اس میں وقت لگے گا۔ جیسا میونخ کے قتل عام کے بعد ہوا، ہم ایسا کریں گے لیکن ہم ان پر ہاتھ ڈالیں گے جہاں وہ ہوں گے"۔

بارنیا کے بیانات موساد کے سابق سربراہ زوی ضمیر کی آخری رسومات کے دوران سامنے آئے جنہوں نے 1972 میں میونخ میں اسرائیلی اولمپک کھلاڑیوں کے قتل کے بعد فلسطینی گروپوں کے خلاف اسرائیلی انتقامی کارروائیوں کی نگرانی کی تھی۔

العاروری لبنانی حزب اللہ کے مضبوط گڑھ بیروت کے جنوبی نواحی علاقے میں ایک عمارت پر ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

اگرچہ اسرائیل نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم لبنانی حکام نے اس پر انگلی اٹھائی ہے۔

اسرائیل کے سرکاری اعداد و شمارکے مطابق حماس نے 7 اکتوبر کی صبح اسرائیل کے خلاف ایک غیر معمولی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 1,140 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

اسرائیل نے 27 اکتوبر سے زمینی حملے کے ساتھ پرتشدد بمباری کا جواب دیا، جس کے نتیجے میں 22,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے جب کہ 57,000 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں حماس کے 8000 جنگجو بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں