بیروت میں حماس کے اعلیٰ عہدیدار کی ہلاکت، غزہ جنگ کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لبنانی اور فلسطینی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیل نے منگل کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک ڈرون حملے میں حماس کے نائب رہنما صالح العاروری کو قتل کر دیا جس سے غزہ جنگ کے فلسطینی علاقوں سے باہر بھی پھیل جانے کا ممکنہ خطرہ بڑھ گیا ہے۔

تقریباً تین ماہ قبل حماس گروپ کے غیر متوقع حملے کے خلاف اسرائیل نے جو فضائی اور زمینی کارروائی شروع کی تھی، اس کے بعد سے 57 سالہ العاروری ہلاک ہونے والے حماس کے اولین سینئر سیاسی رہنما تھے۔

حماس کے اتحادی اور لبنان کا بھاری ہتھیاروں سے لیس حزب اللہ گروپ اکتوبر میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے لبنان کی جنوبی سرحد کے پار اسرائیل کے ساتھ قریب قریب روزانہ فائرنگ کا تبادلہ کر رہا ہے۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو لبنانی سرزمین پر کسی بھی قسم کے قتلِ عام کے خلاف خبردار کرتے ہوئے "شدید ردِعمل" کا عہد کیا ہے۔

حزب اللہ نے منگل کو کہا کہ اس نے العاروری کی ہلاکت کے بعد مارج کے قریب اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا۔

اسرائیل طویل عرصے سے العاروری پر اپنے شہریوں پر مہلک حملوں کا الزام لگاتا رہا ہے لیکن حماس کے ایک اہلکار نے کہا کہ وہ غزہ جنگ کے نتائج اور حماس کے ہاں اسیر اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے قطر اور مصر کی طرف سے کیے گئے "مذاکرات کے قلب" میں بھی تھے۔

اسرائیل نے نہ تو العاروری کے قتل کی تصدیق کی اور نہ ہی تردید البتہ اس کے فوجی ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ اسرائیلی افواج انتہائی تیاری کی حالت میں اور کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار تھیں۔

انہوں نے العاروری کی ہلاکت کی اطلاعات کے بارے میں ایک رپورٹر کے سوال پر کہا، "آج رات کہنے کے لیے اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم حماس سے لڑنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔"

'موت کا انتظار'

اسرائیل نے الزام عائد کیا تھا کہ حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے شریک بانی العاروری نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں برسوں تک حماس کو حملوں کا حکم دیا اور ان کی نگرانی کی تھی۔

العاروری نے اگست 2023 میں حماس کے رہنماؤں چاہے وہ غزہ میں ہوں یا بیرون ملک، کو ختم کرنے کی اسرائیلی دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، "میں موت کا انتظار کر رہا ہوں اور مجھے لگتا ہے کہ میں بہت طویل عرصہ جی لیا ہوں۔"

حماس اور حزب اللہ کے بڑے حامی اور ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ العاروری کی ہلاکت "بلاشبہ مزاحمت کی رگوں میں ایک اور تحریک پیدا کرے گی اور نہ صرف فلسطین بلکہ خطے اور دنیا بھر میں آزادی کے متلاشیوں کے درمیان بھی صیہونی غاصبوں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ پیدا کرے گی۔"

سینکڑوں فلسطینی رام اللہ اور مغربی کنارے کے دیگر قصبوں کی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے العاروری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے "انتقام، انتقام، القسام" کے نعرے لگائے۔

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں تنازعہ ختم نہیں کر دیتا، وہ بحیرۂ احمر میں جہاز رانی پر اپنے حملے جاری رکھے گا اور خبردار کیا ہے کہ اگر خود ملیشیا گروپ کو نشانہ بنایا گیا تو وہ امریکی جنگی جہازوں پر حملہ کرے گا۔

منگل کو تادیر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ حوثی مزاحمت کاروں نے جنوبی بحیرۂ احمر میں دو بحری جہاز شکن بیلسٹک میزائل فائر کیے تاہم کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

برطانیہ کی یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اریٹیریا کے اساب کے مشرق میں واقع آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز کے قریب تین دھماکوں کی اطلاع دی ہے جس میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

امریکہ نے نہر سویز کی طرف جانے والے بحیرۂ احمر کے ذریعے جہاز رانی کی حفاظت کے لیے ایک بین الاقوامی میری ٹائم ٹاسک فورس کا اعلان کیا ہے۔ جہاز رانی کا یہ راستہ عالمی کنٹینر سامان کا تقریباً ایک تہائی لے جاتا ہے۔

الشفاء ہسپتال

غزہ جنگ 7 اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں پر حماس کے سرحد پار حملے کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی جس میں اسرائیل کے مطاطق 1,200 افراد مارے گئے اور تقریباً 240 یرغمالی غزہ لے جائے گئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 207 افراد جاں بحق ہوئے جس سے غزہ میں تقریباً تین ماہ کی جنگ میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 22,185 ہوگئی۔

اسرائیل کہتا ہے کہ وہ شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور حماس پر شہریوں کے درمیان مزاحمت کاروں کو شامل کرنے کا الزام لگاتا ہے جبکہ حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

گذشتہ نومبر میں غزہ سٹی کے الشفاء ہسپتال کو اسرائیل کے نشانہ بنانے پر اندر موجود شہریوں اور مریضوں کی قسمت کے حوالے سے تمام دنیا میں خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔

اسرائیل نے کہا کہ حماس ہسپتال کے نیچے سرنگوں کو ہیڈ کوارٹر کے طور پر اور اپنے مریضوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔

ایک امریکی اہلکار نے منگل کو امریکی خفیہ معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی جاسوسی ایجنسیوں نے اندازہ لگایا کہ حماس اور اسلامی جہاد نے الشفاء کو افواج کی کمانڈ اور کچھ یرغمالیوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا تھا لیکن اسرائیلی فوجیوں کے داخل ہونے سے پہلے ہی اسے بڑی حد تک خالی کر دیا تھا۔

اسرائیلی بمباری سے غزہ کے 2.3 ملین باشندے ایک انسانی آفت کی لپیٹ میں آ گئے ہیں جس میں ہزاروں افراد بے سہارا ہو کر رہ گئے ہیں اور غذائی فراہمی کی کمی کی وجہ سے قحط کا خطرہ ہے۔

حماس کا جنگ بندی کی تجویز کا جواب

العاروری کے قتل سے کچھ دیر پہلے حماس کے اہم رہنما اسماعیل ھنیہ جو غزہ سے باہر مقیم ہیں، نے کہا کہ تحریک نے مصر-قطر کی جنگ بندی کی تجویز پر اپنا ردِعمل دیا تھا۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حماس کی شرائط میں یرغمالیوں کی مزید رہائی کے بدلے میں اسرائیل کی جارحیت کو "مکمل طور پر بند کرنا" شامل تھا۔

اسرائیل کا خیال ہے کہ 129 یرغمالی غزہ میں باقی ہیں جن میں سے کچھ کو نومبر کے آخر میں ایک مختصر جنگ بندی کے دوران رہا کیا گیا تھا اور دیگر فضائی حملوں اور بچاؤ یا فرار کی کوششوں کے دوران مارے گئے تھے۔

اسرائیل نے حماس کا صفایا ہونے تک لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کامیاب ہونے کی صورت میں وہ انکلیو کے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا امکان کہاں رہ جاتا ہے۔

واشنگٹن میں محکمۂ خارجہ نے اسرائیلی کابینہ کے وزراء بزلیل سماٹریچ اور اتمار بن گویر کے "اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ" بیانات کی مذمت کی جنہوں نے غزہ سے باہر فلسطینیوں کی آباد کاری کی وکالت کی تھی۔

اس طرح کے بیانات عرب دنیا میں کچھ لوگوں میں اس خوف کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کو اس سرزمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے جہاں وہ مستقبل کی ایک ریاست کا تصور کرتے ہیں جب 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت فلسطینیوں کو بڑے پیمانے پر بے دخل کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں