فلسطین اسرائیل تنازع

"حماس نے غزہ میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کو فوجی مقاصد کےلیے استعمال کیا تھا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی انٹیلی جنس کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ حماس اور اسرائیل سے لڑنے والے ایک اور فلسطینی گروپ نے غزہ میں الشفاء میڈیکل کمپلیکس کو فوجیوں کی نگرانی اور کچھ قیدیوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا تھا لیکن انھوں نے اسرائیلی فوج کے چھاپے سے قبل اسے خالی کرلیا تھا۔

ایک امریکی اہلکارنے منگل کو امریکی انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جب اسرائیلی فوجیں اس میں داخل ہوئیں تو حماس کے جنگجو اسے خالی کرچکے تھے۔

امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس کمپلیکس کو حماس اور اسلامی جہاد تحریک اسرائیل کے خلاف لڑنے والی افواج کی نگرانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس سروسز نے ان شواہد کو ظاہر نہیں کیا جن کی بنیاد پر انہوں نے اپنی تشخیص کی تھی۔ اہلکار نے کہا کہ امریکا نے آزادانہ طور پر اس معلومات کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیل نے بھی کہا کہ الشفا کمپاؤنڈ جس پر اس نے غزہ کی جنگ میں پہلے قبضہ کیا تھا حماس کے زیر استعمال رہا تھا۔ اسرائیلی فورسز گذشتہ نومبر میں ہسپتال میں داخل ہوئی تھیں۔ اسرائیل کی جانب سے الشفاء کمپلیکس کو حماس کے ملٹری کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کے ثبوت پیش کیے جانے کے بعد واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے تیار کردہ ایک رپورٹ میں ان شواہد کی صداقت پر سوال اٹھایا تھا۔

امریکی اخبار کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے الشفاء ہسپتال کو فوجی کمانڈ سینٹر کے طورپر استعمال کرنے کے اسرائیلی دعوے مشکوک لگتے ہیں۔

ہسپتال کو نشانہ بنانے سے اس کے اندر موجود شہریوں اور مریضوں کی قسمت کے بارے میں عالمی تشویش پیدا ہو گئی۔

پچھلے مہینے عالمی ادارہ صحت نے غزہ کی پٹی میں صحت کی اہم سہولت کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو "خون کی ہولی" کے مشابہ قرار دیا تھا۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ امریکی حکومت کا خیال ہے کہ حماس نے ہسپتال کے احاطے اور اس کے نیچے کی جگہوں کو کمانڈ اینڈ کنٹرول کی سرگرمیاں انجام دینے، کچھ ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے اور بہت کم تعداد میں یرغمالیوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا۔

امریکی اہلکارنے مزید کہا کہ امریکی انٹیلی جنس سروسز کو یہ اطلاع ملی تھی کہ حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی آپریشن سے کچھ دن پہلے کمپاؤنڈ کو بڑی حد تک خالی کر دیا تھا اور وہاں سے نکلتے ہی دستاویزات اور الیکٹرانکس کو تباہ کر دیا تھا۔

نیویارک ٹائمز نے سب سے پہلے امریکی انٹیلی جنس کا جائزہ شائع کیا۔ اس رپورٹ کی ایک خفیہ کاپی کانگریس میں قانون سازوں کو بھیجی گئی ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں