حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر کی طرف دو میزائل داغے ہیں: امریکی سینٹرل کمانڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ حوثیوں نے کل شام یمن میں اپنے کنٹرول والے علاقوں سے جنوبی بحیرہ احمر کی طرف دو میزائل داغے۔

انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک بیان میں مزید کہا کہ یہ حملہ صنعاء کے وقت کے مطابق شام نو بجے کے قریب کیا گیا۔ خطے میں متعدد بحری جہازوں نے اطلاع دی کہ دونوں میزائل ارد گرد کے پانیوں میں گرے، لیکن ان میں سے کوئی بھی میزائل جہازوں پر نہیں نہیں گرا۔ اس واقعے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔

سینٹرل کمانڈ نے حوثیوں کے مبینہ میزئل حملوں کو"غیر قانونی اقدامات" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے درجنوں معصوم ملاحوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے اور بین الاقوامی تجارت کے آزادانہ بہاؤ میں رکاوٹ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کا تازہ ترین حملہ گذشتہ انیس نومبر سے تجارتی بحری جہازوں کے خلاف چوبیسواں حملہ ہے۔

اس سے قبل برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے ایک یادداشت میں بتایا تھا کہ اسے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز سے 5 ناٹیکل میل کے فاصلے پر اور اریٹیرین شہر اساب سے 33 ناٹیکل میل مشرق میں 3 دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

برطانوی اتھارٹی نے جہاز اور عملے کی حفاظت کے بارے میں بات کی۔ یہ دونوں واقعات حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں کئی بحری جہازوں کے حملے کے بعد پیش آئے۔

دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نےاپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے فون پر بات چیت میں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور یوکرین اور غزہ کی جنگوں پر تبادلہ خیال کیا۔

انٹونی بلینکن اور ڈیوڈ کیمرون
انٹونی بلینکن اور ڈیوڈ کیمرون

امریکی محکمہ خارجہ نے وضاحت کی کہ بلینکن اور کیمرون نے عام شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے اورغزہ میں شہریوں تک انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی نیویگیشن پر حوثی گروپ کے حملوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اجتماعی کثیرالجہتی کارروائی کی اہمیت پر بھی بات کی۔

یمنی حوثی گروپ جو دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے بیشتر علاقوں پر قابض ہے۔اس نے غزہ پر اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج میں بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں