سعودی طلباء نے جدید ترین ڈرون ایجاد کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی شاہ فہد یونیورسٹی آف پیٹرولیم اینڈ منرلز کے سعودی طلباء نے ایک جدید "ڈرون" پروجیکٹ بنایا ہے جس میں لوگوں کی شناخت اور جگہوں کا پتہ لگانے کے ساتھ ساتھ حکومتی سہولیات اور ممالک کی سرحدوں کی حفاظت کی غیرمعمولی صلاحیت ہے۔ یونیورسٹی نے پرنس سلطان سینٹر فار ڈیفنس اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ساتھ مل کر اس منصوبے میں مدد کی ہے۔

پروجیکٹ کی تفصیلات کے بارے میں حصہ لینے والے طالب علموں میں سے ایک حسین عندس نے کہا کہ "پروجیکٹ کا عنوان "Security Systems for Drones" ہے اور مختلف اسپیشلائزیشن کے 6 طالب علموں نےاسے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد کے ساتھ منفرد ڈیزائن کے ساتھ خیالات اور تجربات کو متنوع بنانا"۔

عنداس نے بتایا کہ اس منصوبے میں صنعتی انجینیرنگ، الیکٹریکل انجینئرنگ، سول انجینئرنگ، ہوا بازی اور خلائی انجینیرنگ جیسی مختلف مہارتیں شامل ہیں۔ یہ ڈرون انسانی مداخلت کے بغیر کم سے کم قیمت پر چوبیس گھنٹے تنصیبات اور ملکی سرحدوں کی حفاظت پر مرکوز ہے۔ ڈرون میں کیمرہ، بیٹری، لائٹنگ، اسپیکر، سینسر اور چارجر شامل ہیں۔

طالب علم کا کہنا ہے کہ یہ خیال سمسٹر کے آغاز سے پہلے شروع ہوا اور ریسرچ ٹیم کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی، جس میں اہداف طے کیے گئے۔ چھ ہفتوں کے دوران سمسٹر کی مدت میں ہم نے اپنا منصوبہ تیار کیا اور اس پر عمل درآمد کی تاریخ مقرر کی۔ ہم نےمیں چار ماہ میں اپنا کام مکمل کرلیا۔

انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے کہا کہ "طیارہ ایک حفاظتی نظام کے مطابق چلتا ہے جس کا مقصد انسانی مداخلت کو کم سے کم حد تک لانا ہے"۔

پروجیکٹ میں حصہ لینے والے طلباء ایرو اسپیس انجینئیر محمد القحطانی ، خالد الزہرانی، انڈسٹریل انجینیرنگ سے حسین عنداس اور فہد خضیر، سول انجینیرنگ سے ابراہیم الداؤد اور الیکٹریکل انجینئرنگ سے فارس یحییٰ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں