فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ اور مغربی کنارے میں ایک فلسطینی حکومت کے لیے حماس تیار ہے: اسماعیل ھنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کہا ہے کہ حماس غزہ اور پورے مغربی کنارے پر مشتمل فلسطینی علاقے میں ایک حکومت کی تشکیل کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار اپنے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کیا ہے۔

حماس سربراہ کا کہنا تھا ' ہمیں فلسطین کی اندرونی صورت حال کے بارے میں متعدد چیزوں کی اطلاع ملی ہے، اس تناظر میں ہم ایسے آئیڈیا کے لیے تیار ہیں جس میں غزہ اور مغربی کنارے کو ایک ہی فلسطینی حکومت دیکھے۔'

واضح رہے دوہزار چھ کے عام انتخابات میں غزہ کی پٹی پر فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے الیکشن جیت کر حکومت بنائی تھی۔ لیکن اس کے بعد ،محمود عباس کی فتح اور حماس کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔ دو طرفہ مصالحت کی کئی کوششیں ہوئیں مگر ناکام ہو گئیں۔

نتیجتاً محمود عباس کی مقبولیت کا گراف نیچے چلا گیا ۔ تاہم وہ آج بھی فلسطینی اتھارٹی کے صدر ہیں۔ اگرچہ اس دوران دوبارہ کبھی صدارتی انتخاب بھی کبھی نہیں کرایا گیا۔

اب مستقبل کی حکومت کے لیے ان فریقوں نے اپنے اوپر ذمہ داری لے لی ہے جو غزہ میں حماس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تقریباً تین ماہ سے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کا مقصد حماس کا مکمل خاتمہ ہی بتایا جا رہا ہے۔

امریکہ اس بارے میں زور دے کر کہہ رہا ہے جو بھی حکومت ہو اس میں فلسطینیوں کو شامل کرنا لازمی ہے ، وگرنہ حکومت چل نہیں سکے گی، لیکن اس میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فلسطینی اتھارٹی کا کردار کیا ہو گا ابھی تک غیر واضح ہے۔

یرغمالیوں کی رہائی کے بارے میں ایک سوال پر حماس قائد اسماعیل ھنیہ نے کہا ' دشمن کے قیدیوں کی رہائی صرف اسی صورت ممکن ہے کہ مزاحمتی تحریک کی شرائط تسلیم کی جائیں۔

یاد رہے غزہ میں اس وقت بھی اسرائیل کے 129 یرغمالی قید ہیں۔ جو اور جتنے بھی یرغمالی اب تک رہائی پا گئے وہ صرف جنگ بندی کے نتیجے میں رہائی پا سکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں