غزہ جنگ کے فریق حل نہیں دے سکیں گے ، دنیا باہر سے حل مسلط کرے: جوزپ بوریل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری صورت حال میں بہتری لانے کے لیے باہر سے حل مسلط کرے۔ کیونکہ لڑنے والے فریق اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایک دوسرے کو اپنی شرائط پر قائل کر سکیں۔ جوزپ بوریل نے یہ بات بدھ کے روز کہی ہے۔

سات اکتوبر سے غزہ میں اسرائیلی جنگ مسلسل جاری ہے اور اس جنگ کے دوران امریکہ، اہم یورپی ملک مکمل طور پر اور یورپی یونین بھی تقریباً اسرائیل کی مکمل حمایت کرنے کی وجہ سے ایک فریق کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

یہ صورت حال اقوام متحدہ کے اہم ترین پلیٹ فارم سلامتی کونسل کے علاوہ اسرائیل کو غزہ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امریکہ سے اسلحہ کی بار بار ترسیل کے علاوہ جنگی حکمت عملی پر گہری مشاورت کے حوالے سے بھی سامنے آتی رہی ہے۔

تاہم اب جبکہ 22000 سے زائد غزہ کے شہری ہلاک ہو گئے ہیں، بیس اکیس لاکھ سے زائد نقل مکانی کرچکے ہیں۔ غزہ کی مکمل تباہی کے بعد اسرائیل اب لبنان کو نشانہ بنانے کی تیاری کر چکا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرائی ہے۔

جوزپ بوریل نے لزبن شہر میں تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا' ہمارا تیس سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ غزہ میں جاری صورت حال کو کوئی حل مقامی طور پر ممکن نہیں ہو گا کہ تنازعہ کے فریق کسی حل پرنہیں پہنچ سکیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری غزہ کے حوالے سے حل کو باہر سے مسلط کرے۔ '

جوزپ بوریل نے غزہ میں جاری جنگ کے بارے میں خبر دار کیا یہ المیہ جلد ختم ہونےوالا نہیں ہے۔ بلکہ خطرہ ہے کہ پورا مشرق وسطیٰ ہی اس جنگ کی لپیٹ میں آجائے گا۔'

مقبول خبریں اہم خبریں