غزہ کی خواتین بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر، اسرائیل کے محاصرے سے فلسطینی فاقوں پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بین الاقوامی این جی او ایکشن ایڈ نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر ہیں کیونکہ اسرائیل کی جنگ میں علاقے کے رہائشیوں کو بہت کم یا نہ ہونے کے برابر خوراک میسر ہے جس کی وجہ سے وہ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔

ایکشن ایڈ فلسطین میں ایڈوکیسی اور کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر ریحام جعفری نے العربیہ کو بتایا، "غزہ کے لوگوں کو جو ہولناکی برداشت کرنا پڑ رہی ہے، اس کی گہرائی بیان کرنے کے لیے ہمارے پاس الفاظ ختم ہو رہے ہیں۔ پوری آبادی بھوکوں مر رہی ہے لیکن حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور ان کے بچے سب سے زیادہ تکلیف میں ہیں۔ ہم جو کہانیاں سن رہے ہیں وہ دل دوز ہیں۔"

18 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں اسرائیلی حملوں کے دوران اپنے گھر سے بھاگ جانے والی ایک فلسطینی خاتون بچے کو دودھ پلا رہی ہے جبکہ وہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام ایک مرکز میں پناہ گزین ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
18 اکتوبر 2023 کو جنوبی غزہ کی پٹی کے خان یونس میں اسرائیلی حملوں کے دوران اپنے گھر سے بھاگ جانے والی ایک فلسطینی خاتون بچے کو دودھ پلا رہی ہے جبکہ وہ اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام ایک مرکز میں پناہ گزین ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

اسرائیل نے محصور انکلیو کی اشد ضروری انسانی امداد تک رسائی منقطع کر رکھی ہے اور غزہ کی پٹی کو ملبے کا ڈھیربنائے جا رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے گذشتہ ہفتے غزہ کے باشندوں کو درپیش حالات کو "ناممکن صورتِ حال" قرار دیا تھا کیونکہ اسرائیلی حکومت سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کئی عوامل کو امداد کی فراہمی میں کمی کی وجہ قرار دیا جن میں اسرائیلی بمباری، امدادی قافلوں کا گولہ باری کی زد میں آ جانا، امدادی ٹرکوں کو فلسطینی سرزمین میں داخلے کی اجازت دینے سے قبل سخت معائنہ کی پرتیں، مسترد شدہ اشیاء کی بڑھتی ہوئی فہرست، اور خود امدادی کارکنان کا جنگ سے ہلاک اور بے گھر ہو جانا شامل ہیں۔

دریں اثناء نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس گروپ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل اس وقت فلسطینیوں کا صفایا کرنے کے لیے فاقہ کشی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

پانی کی کمی

ایکشن ایڈ کے مطابق غزہ میں اوسطاً فی شخص روزانہ 1.5 لیٹر پانی دستیاب ہے جس میں پینے سے لے کر نہانے اور صفائی تک انہیں تمام ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں۔

البتہ بنیادی بقا کے لیے ایک شخص کو روزانہ 15 لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔

غزہ کی پٹی کے خان یونس میں پانی کی قلت کے درمیان فلسطینی پانی بھرنے کے لیے جمع ہیں جبکہ ایک بچہ دیکھ رہا ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)
غزہ کی پٹی کے خان یونس میں پانی کی قلت کے درمیان فلسطینی پانی بھرنے کے لیے جمع ہیں جبکہ ایک بچہ دیکھ رہا ہے۔ (فائل فوٹو: رائٹرز)

تنظیم نے مزید کہا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو خود کو اور اپنے بچوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ 7.5 لیٹر اضافی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

بھوک

یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے مطابق غزہ کی 71 فیصد آبادی اس وقت شدید بھوک کا شکار ہے جب کہ 98 فیصد لوگوں کے پاس وافر کھانا نہیں ہے۔ حاملہ خواتین، ماؤں اور ان کے چھوٹے بچوں پر اس کے اثرات شدید ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں 50,000 سے زیادہ حاملہ اور 68,000 دودھ پلانے والی خواتین ہیں جنہیں فوری طور پر جان بچانے والی، انسدادی یا علاج معالجے کی غذائی مداخلت کی ضرورت ہے۔

مجموعی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے 7,685 بچے زندگی کے لیے خطرناک تباہی کا شکار ہیں – جن کی وجہ سے وہ نشوونما میں تاخیر، بیماری اور سنگین صورتوں میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں – جبکہ 4,000 سے زیادہ 'شدید تباہی' کا شکار ہیں اور انہیں زندگی بچانے والے علاج کی ضرورت ہے۔

جعفری نے کہا، "مائیں بے بسی سے دیکھنے پر مجبور ہیں جب ان کے بچے بھوک سے چیختے اور روتے ہیں جبکہ وہ کچھ کرنے سے بالکل قاصر اور بے بس ہیں۔ ایک ماں جو خوراک اور پانی سے اتنی محروم تھی کہ وہ دودھ پلانے سے قاصر تھی، اس نے ہمیں اپنا ہولناکی کا احوال بتایا کہ اس کا بچہ غذائی قلت کی وجہ سے آہستہ آہستہ زرد ہو گیا۔"

 غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح میں ایک بچہ خوارک کے ڈبوں والی میز پر بیٹھا ہے۔ (رائٹرز)
غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے رفح میں ایک بچہ خوارک کے ڈبوں والی میز پر بیٹھا ہے۔ (رائٹرز)

ایک نوزائیدہ بچے سمیت پانچ بچوں کی ماں خیتم جو اس وقت دیر البلح کے ایک اسکول میں پناہ لیے ہوئے ہیں، نے ایکشن ایڈ کو بتایا کہ ان کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

امدادی گروپ کو ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا: "نہ پانی ہے اور نہ کھانے کے لیے کچھ ہے۔ یہاں صفائی نہ ہونے کی وجہ سے میری چھوٹی بچی کی جلد پر خارش والے دانے ہو گئے ہیں۔ ہماری حالت بہت مشکل ہے۔ آپ پانی کیسے پیتے ہیں؟ کیا یہ آپ کے اور بچے کے لیے کافی ہے؟ یقیناً نہیں! پینے کو پانی نہیں ہے۔ صاف پانی نہیں ہے۔ ہم بمشکل اپنی پیاس بجھا پاتے ہیں۔ میرے [پاس] چار [اور] بچے ہیں جو صبح سے کھانا چاہتے ہیں لیکن روٹی نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا، "جب گھر خالی کرنے کا حکم جاری کیا گیا۔۔ تو میرا اس سے دو دن پہلے ہی بچہ پیدا ہوا تھا۔ میں وضع حمل کے بعد اور تھکی ہوئی تھی۔ مجھے ابھی ہسپتال سے چھٹی ملی ہی تھی اور [بدستور] خون بہہ رہا تھا۔ میں اپنی بیٹی کو اٹھا کر بھاگ رہی تھی۔ ہم میزائلوں اور گولہ باری کے نیچے چل رہے تھے اور کچھ دیر فرش اور گلیوں میں سانس لینے کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔"

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 1.9 ملین افراد – یا آبادی کا 85 فیصد سے زیادہ – غزہ کی پٹی میں کئی بار بے گھر ہو چکے ہیں۔

لوگ اپنے اہل خانہ کے لیے غذائی امداد کی امید میں گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں لیکن یا تو خالی ہاتھ لوٹتے ہیں یا انہیں بمشکل زندہ رکھنے کے لیے ہی خوراک مل پاتی ہے۔

ایکشن ایڈ فلسطین کی جعفری نے العربیہ کو بتایا، "خوفناک طور پر معاملات خراب ہوسکتے ہیں۔ ضائع کرنے لیے وقت ہے ہی نہیں۔ ہر روز غزہ میں سینکڑوں لوگ پہلے ہی بمباری سے مر رہے ہیں – جلد ہی سینکڑوں بھوک اور بیماری سے بھی مر جائیں گے۔"

تنظیم نے فوری اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ "مکمل غیر ضروری (مزید) اموات کو روکا جا سکے اور غزہ میں درکار بڑے پیمانے پر خوراک، ایندھن، ادویات اور دیگر انسانی امداد کو داخلے کی اجازت مل سکے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں