العاروری کے قتل میں جنگی طیارے اور 100 کلو گرام وزنی میزائل کے استعمال کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کے ایک سرکردہ سکیورٹی ذریعے نے بدھ کے روز ’اےایف پی‘ کو بتایا کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حماس کے رہ نما صالح العاروری اور دیگر چھ افراد کو اسرائیلی جنگی طیارے کے ذریعے داغے گئے "گائیڈڈ میزائل" کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔

منگل کے روز لبنانی حکام اور حماس تحریک نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے العاروری اور اس کے ساتھیوں کو بمباری میں ہلاک کیا، جس کے بارے میں لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے کہا کہ یہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا حملہ تھا، جس میں حزب اللہ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حماس کے دفتر کو نشانہ بنایا گیا۔

ابتدائی تحقیقات سے واقف سکیورٹی ذرائع نے وضاحت کی کہ "العاروری کا قتل ڈرون کے ذریعے نہیں بلکہ جنگی طیارے سے داغے گئے گائیڈڈ میزائلوں کے ذریعے ہوا۔" ذرائع نے دو عوامل پر انحصار کیا۔ پہلا "نشانے کی درستگی کیونکہ ڈرون کے لیے اس درستگی کے ساتھ مارنا ممکن نہیں ہے۔ دوسرا میزائل کا وزن ہے، جس کا اندازہ ہر ایک کے لیے تقریباً 100 کلوگرام ہے"۔

اسرائیل نے اس کارروائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں العاروری کی ہلاکت پر براہ راست تبصرہ کیے بغیر کہا کہ فوج "دفاع اور حملے میں چوکس ہے۔ ہم تمام حالات کے لیے تیار ہیں۔"

This undated handout picture released by the media office of the Palestinian Hamas movement on January 3, 2024 shows Hamas' deputy chief Saleh al-Aruri speaking on a phone at an office in Beirut. Aruri was killed on January 2 along with his bodyguards in a strike by Israel, which has vowed to destroy Hamas after the movement's shock October 7 attacks. Israel has previously announced the deaths in Gaza of Hamas commanders and officials during the war, but Aruri is the most high-profile figure to be killed, and his death came in the first strike on the Lebanese capital since hostilities began. (Photo by HAMAS MEDIA OFFICE / AFP) / ESTRICTED TO EDITORIAL USE - MANDATORY CREDIT AFP PHOTO / HAMAS MEDIA OFFICE  - NO MARKETING - NO ADVERTISING CAMPAIGNS - DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS - ESTRICTED TO EDITORIAL USE - MANDATORY CREDIT AFP PHOTO / HAMAS MEDIA OFFICE  - NO MARKETING - NO ADVERTISING CAMPAIGNS - DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS
This undated handout picture released by the media office of the Palestinian Hamas movement on January 3, 2024 shows Hamas' deputy chief Saleh al-Aruri speaking on a phone at an office in Beirut. Aruri was killed on January 2 along with his bodyguards in a strike by Israel, which has vowed to destroy Hamas after the movement's shock October 7 attacks. Israel has previously announced the deaths in Gaza of Hamas commanders and officials during the war, but Aruri is the most high-profile figure to be killed, and his death came in the first strike on the Lebanese capital since hostilities began. (Photo by HAMAS MEDIA OFFICE / AFP) / ESTRICTED TO EDITORIAL USE - MANDATORY CREDIT AFP PHOTO / HAMAS MEDIA OFFICE - NO MARKETING - NO ADVERTISING CAMPAIGNS - DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS - ESTRICTED TO EDITORIAL USE - MANDATORY CREDIT AFP PHOTO / HAMAS MEDIA OFFICE - NO MARKETING - NO ADVERTISING CAMPAIGNS - DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS

لبنانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق جنگی طیارے نے چھ میزائل داغے جن میں سے دو نہیں پھٹے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو میزائل حماس کے رہ نماؤں کے اجلاس کو نشانہ بنانے سے پہلے دو منزلوں کی چھت میں گھس کر پھٹے‘‘۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ منگل کی بمباری میں استعمال ہونے والے میزائل اسرائیلی جنگی طیاروں نے استعمال کیے تھے اور لبنانی ملٹری سروسز نے اس سے قبل اسی طرح کے میزائل جنوبی لبنان میں اسرائیلی طیاروں کی طرف سے داغے گئے دیکھے تھے، جس کے بعد اسرائیل کے ساتھ سرحد کے پار جنگ بندی شروع ہو گئی تھی۔

سات اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان روزانہ بمباری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں لبنانی جانب سے کم از کم 168 افراد ہلاک ہوئے جن میں حزب اللہ کے 120 ارکان بھی شامل تھے۔ اسرائیلی فوج کے کم از کم 13 اسرائیلی اہلکار ہلاک ہوئے۔

لبنان میں مغربی طاقتیں اور حکام طویل عرصے سے تنازع کے پھیلنے کے خطرات سے خبردار کر چکے ہیں۔ نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی نے منگل کے روز اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کی طرف سے حماس کے دفتر پر بمباری جنگ میں "لبنان کو گھیسٹنے" کی کوشش ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ عبداللہ بو حبیب سے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس واقعے کی شکایت پیش کریں۔

حزب اللہ نے کہا کہ "الشیخ صالح العاروری کو قتل کرنے کا جرم لبنان، اس کے عوام، اس کی سلامتی، اس کی خودمختاری اور اس کی مزاحمت پر ایک خطرناک حملہ ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں