مشرق وسطیٰ

العاروری کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی سینٹرل کمانڈ نے بدھ کی شام العربیہ کو بتایا کہ حماس کے رہ نما صالح العاروری کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل نے ہی وہ حملہ کیا جس نے منگل کی شام بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حماس کے رہ نما صالح العاروری کو قتل کیا گیا۔

العاروری جو منگل کے روز لبنانی حزب اللہ کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں مارے گئے تھے سات اکتوبر کو غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والی سب سے نمایاں شخصیت ہیں۔

ایک اہلکار نے اپنی شخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کوبتایا کہ "العاروری کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا حملہ اسرائیلی تھا"۔

حماس اور لبنان میں سکیورٹی حکام نے اسرائیل پر العاروری اور چھ دیگر افراد کے قتل کا الزام عائد کیا۔ دی گارجیئن نے اس وقت العاروری کو قتل کرنے کے لیے اسرائیل کے انتخاب کی وجوہات کا انکشاف کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے بدھ کے روز العاروری کی ہلاکت پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ فوج "تمام منظرناموں کے لیے تیار ہے۔"

ستاون سالہ العاروری حماس تحریک کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ اور مغربی کنارے میں اس کے عسکری ونگ (عز الدین القسام بریگیڈز) کے بانیوں میں سے ایک تھے۔

ایرانی پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی برسی کے موقع پر بدھ کی شام ایک تقریر میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "خطرناک جرم" العاروری کے قتل کی نمائندگی کرتا ہے"۔ اس کا ضرور جواب دیا جائے گا‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں