حزب اللہ سے معاملات سیاسی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں لیکن وقت ختم ہو رہا ہے:اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے جمعرات کو امریکی ایلچی آموس ہاکسٹین کو بتایا کہ لبنان کے محاذ پر سیاسی حل کے لیے وقت کم بچا ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تل ابیب حزب اللہ کے ساتھ تنازع کو سیاسی طور پر حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ان کے پاس اس کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے۔

گیلنٹ نے کہا کہ"ہم سلامتی کی صورتحال میں تبدیلی کے بعد شمال میں رہنے والوں کی واپسی کے لیے پرعزم ہیں"۔

تناؤ میں کمی

امریکی صدرجو بائیڈن نے خصوصی ایلچی اموس ہوچسٹین کو ایک ایسے وقت میں خطے میں بھیجا جب واشنگٹن اسرائیل اور لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش میں اپنی سفارتی مصروفیات کو تیز کر رہا ہے۔

سنہ 2022ء میں اسرائیل اور لبنان کی سمندری سرحدوں کی حد بندی پر ختم ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے ہاکسٹین بہت زیادہ سرگرم رہے تھے۔

امریکی عہدیدار کا یہ دورہ اسرائیل منگل کو بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ میں حماس کے رہ نما صالح العاروری کی ہلاکت کے بعد ہو رہا ہے۔ اس واقعے میں اسرائیل کو ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے اور امریکا نے کہا ہے کہ العاروری کےقتل میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

العاروری بیروت میں مقیم تھے۔ وہ حماس کے پہلے سینیر سیاسی رہ نما ہیں جنہیں فلسطینی علاقوں سے باہر قتل کیا گیا۔

ادھر لبنانی حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ نے العاروری کے قتل کے بعد اسرائیل کو کسی بھی طرح کی کشیدگی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے زور دیا کہ اگر اسرائیل لبنان کے خلاف جنگ چھیڑنے کا سوچتا ہے تو ہماری لڑائی بغیر کسی حد کےبغیر کسی اصول کے اور سرحدوں سے ماورا ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں