دنیا سے بہت بہت بلندی پر: ہسپانوی ہوائی غبارے کے پائلٹ کی سعودی عرب کے العلا پر پرواز

العلا پر پرواز کرنا ہمیشہ زندگی کے مقاصد میں شامل رہا ہے: پائلٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ہوائی غباروں سے کاسٹیلو کی محبت 14 سال کی عمر میں شروع ہوئی جب اسکول میں کھانے کے وقفے کے دوران انہوں نے اور ان کے ہم جماعتوں نے ایک ایسے غبارے کو قریبی کھیت میں اترنے سے پہلے فضا میں پرواز کرتے دیکھا۔

کاسٹیلو نے کہا، "گذشتہ عرصے کے دوران ہوائی غبارہ ایک نایاب نظارہ ہوتا تھا جو حقیقی زندگی سے زیادہ فلیس فاگ کی مہم جوئی سے وابستہ تھا۔ سینکڑوں بچے اس کی طرف سرپٹ بھاگے، اس بےمثال منظر سے بالکل سحرزدہ جو ہم دیکھ رہے تھے۔ اس دن نے مجھ پر گویا ایک نقش ثبت کر دیا!"

دو سال بعد جب وہ کام کرنے کی عمر کو پہنچ گئے تو انہوں نے ہوائی غبارے کا پائلٹ بننے کے لیے گرمیوں کی نوکریوں سے پیسے بچانا شروع کر دیئے۔

انہوں نے کہا، "ہوائی غبارے کے پائلٹ کے طور پر اپنی تربیت شروع کرنے کے لیے مجھے 20 سال کی عمر تک انتظار کرنا پڑا اور 22 سال کی عمر میں میں نے اپنی کمپنی قائم کی، اپنا ہوائی غبارہ خریدا اور ہوائی غبارے کی سواری فراہم کرنے کی پیشکش شروع کردی۔"

کاسٹیلو نے کہا کہ 20 سے زیادہ ممالک میں پرواز کرنے کے بعد وہ مملکت کے مناظر سے متأثر ہوئے کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے صحراؤں میں سے ایک کا مسکن ہے۔

انہوں نے العلا کو ایک "عجائب گھر جہاں وقت ساکت ہو جاتا ہے" اور ایک ایسا مقام جو "قدیم تہذیبوں کی بازگشت کو محفوظ رکھتا ہے" قرار دیتے ہوئے کہا، "ہر پرواز انتہائی شاندار سے کم نہیں ہوتی!"

جب کاسٹیلو کو ہیگرا میں ہیرو بیلون فلائٹس کے ساتھ پرواز کرنے کا موقع دیا گیا تو وہ اسے ہاتھ سے جانے نہ دے سکے۔

پرواز کے لیے ان کے پسندیدہ مقامات ہندوستان میں جے پور، ترکی میں کیپاڈوشیا اور سعودی عرب میں العلا ہیں۔

انہوں نے بیان کیا، "راجستھانی دیہات، ماورائے حقیقت مناظر، غیر معروف محلات، اور شاندار قلعات نیز مقامی راجستھانی ثقافت اور پررونق اور دوستانہ مقامی کمیونٹیز کے ساتھ قریبی تعامل اس تجربے کو منفرد بناتے ہیں۔۔۔ ترکیے میں کیپاڈوشیا چٹانوں کی منفرد شکلیں اور بےمثال مناظر والا ایک خطہ ہے۔"

"اور اس فہرست میں سعودی مملکت میں ہیگرا کے آثارِ قدیمہ کو ہیرو بیلون فلائٹس کے ساتھ شامل نہ کرنا ناقابلِ فہم ہوگا۔۔۔ ہوائی غبارے سے العلا کا منظر بلاشبہ خوبصورت ترین مناظر میں سے ایک ہے جو میں نے اب تک دیکھے ہیں اور میں یہاں پرواز کرنے کو اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔ لامتناہی ریگی مناظر، چٹانوں کی لہری شکلیں، صاف نیلے آسمان اور پرشکوہ طلوعِ آفتاب کے درمیان حسنِ ترتیب نے اس علاقے کو بے مثال خوبصورتی کا نمونہ بنا دیا ہے۔"

کاسٹیلو نے کہا البتہ پرواز کی پابندیاں ایک چیلنج ہیں جن سے ہوائی غبارے کے پائلٹوں کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا، "خاص طور پر اگر نیچے گنجان آباد علاقے یا بڑے تجارتی فارم ہیں تو ہمیں ان سے دور رہنا پڑتا ہے۔۔۔ مجھے یہ تسلیم کرنا پڑے گا جب آپ کسی کے کھیت میں اترتے ہیں اور وہ غصے سے سرخ چہرے کے بجائے آپ کو چائے، کافی، بسکٹ اور کیک کے ساتھ خوش آمدید کہنے کے لیے باہر آتے ہیں تو یہ واقعی تسکین بخش ہوتا ہے۔"

اپنے کیریئر کے آغاز سے کاسٹیلو نے ٹیکنالوجی میں بڑی پیش رفت دیکھی ہے جس سے ہوائی غبارے کا تجربہ آسان ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا، "آج کل ہوائی غباروں میں جدید نیویگیشن سسٹم بشمول جی پی ایس، الٹی میٹر اور ویریومیٹر شامل ہیں۔ یہ آلات پائلٹ کو زیادہ درست طریقے سے گھومنے، بلندی پر نظر رکھنے اور موسمی حالات کو حقیقی وقت میں ٹریک کرنے کی اجازت دیتے ہیں جس سے پرواز کے مجموعی کنٹرول اور حفاظت میں اضافہ ہوتا ہے۔"

ان لوگوں کے لیے جو ایک گھنٹے تک ہوا میں رہنے سے پریشان ہیں، کاسٹیلو اپنے مسافروں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہوائی غبارے ہوا بازی کی کچھ محفوظ ترین شکلوں میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے کہا، "البتہ ہوائی غبارے ارد گرد کے ماحول کے برابر کی رفتار سے حرکت کرتے ہیں اس لیے اس سے دل گھبرانے یا قے آنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ ہوائی غبارے میں تیرنے والے مسافر اکثر ہنگامہ خیزی کی کمی کی وجہ سے حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ پرواز کے دوران اوپر اور نیچے کی طرف حرکت کرنے کا کوئی تصور نہیں ہوتا اور وہ ہوا کے جھونکے کے ساتھ اڑتے ہیں جس سے یہ ایک بہت پر سکون تجربہ بن جاتا ہے۔"

کاسٹیلو کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں دلچسپ واقعات کا مشاہدہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہوائی غبارہ رومانس کا مترادف ہے اور جب ہمیں ہوائی غبارے میں شادی کے پیغام والی پرواز ملتی ہے تو ہر پائلٹ کو اچھا لگتا ہے۔"

"البتہ ایک وقت تھا چند سال پہلے جب میں 20 مسافروں کے ساتھ ایک غبارہ اڑا رہا تھا اور مسافروں میں سے ایک نے اپنی ساتھی خاتون کو شادی کا پیغام دیا اور اس نے جواباً کہا: 'نہیں'۔"

انہوں نے کہا، "پرواز کے بقیہ 45 منٹ کے دوران جو عجیب و غریب خاموشی چھائی ہوئی تھی اور ہر ایک کے چہرے پر جو بے چینی تھی، اس لحاظ سے وہ میری اب تک کی سب سے کم پسندیدہ پرواز تھی اور میں لینڈ کرنے پر اتنا خوش کبھی نہیں ہوا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں