سعودی عرب کی ’قیصریہ مارکیٹ‘ قومی ورثے کی صدیوں پرانی یادگار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

واقعات اور حالات کے ساتھ کہانیاں اور لوک داستانیں تاریخ کے بہت سے پہلو زندہ رکھتی ہیں۔ انسان جو کچھ بھی تجربہ کرتا ہے وہ ایک ورثہ ہوتا ہے جو ہر دور میں زندہ رہتا ہے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء کے تاریخی ’قیصریہ بازار‘ کو بھی ایسے ہی تاریخی اور مورثی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے جو صدیوں سے مملکت کے قومی ورثے کا ’آئیکن‘ ہے۔

قیصریہ بازار کا تذکرہ مسافروں کی یادداشتوں میں کیا گیا ہے۔ اس کو علاوہ کچھ تاریخی دستاویزات میں بھی اس بازار کا تذکرہ ملتا ہے۔ قیصریہ بازار انیسویں صدی عیسوی میں موجود تھا۔ اسے اس وقت خلیج عرب کے خطے کا سب سے بڑا بازار سمجھا جاتا تھا۔ جدید معیار کی سطح پر یہ اپنے ارد گرد شہری ترقی اور جدید مارکیٹوں کی موجودگی کے باوجود ایک تجارتی مرکز بنا ہوا ہے۔

"سیزر نائٹس" فیسٹیول جس کا افتتاح الاحساء کے گورنر شہزادہ سعود بن طلال بن بدر نے کیا موسم سرما کی تقریبات کے طور پر دو ماہ تک جاری رہے گا۔ جس میں الاحساء کے بارے میں مشہور فنون اور مشہور دستکاری کی نمائش ہوتی ہے۔ تعارفی نمائشوں اور ثقافتی اور سماجی پروگراموں کے علاوہ الاحساء میونسپلٹی، الاحساء گورنری اور الاحساء ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے زیراہتمام کئی دوسری سرگرمیاں جاری ہیں۔

شہزادہ طلال نے قیصریہ مارکیٹ کی قدیم تاریخ کی اہمیت پر زور دیا جس میں ماضی کی شرافت اور تعمیراتی ورثے کی اصلیت شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس مارکیٹ کی معاشی اور تجارتی اہمیت اور سماجی تعلق بھی شامل ہے۔

متعلقہ سطح پر الاحساء کے میئر انجینیر عصام الملا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو وضاحت کی کہ الاحساء ایک عالمی ثقافتی ورثہ ہے اور دستکاری کے تخلیقی شعبے کے ذریعے یونیسکو کے عالمی تخلیقی شہروں کے نیٹ ورک کا رکن ہے۔ یہاں سے قدیم الاحساء ورثے کو زندہ کرنے، سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنانے اور ورثے اور لوک فنون کے تحفظ کو فروغ دینے میں ہماری دلچسپی پیدا ہوئی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ تہوار رمضان کے مقدس مہینے کی 20 تاریخ تک جاری رہے گا، جس کا مقصد ایک عظیم ورثہ، ثقافتی اور سماجی پہلو پیدا کرنا ہے، کیونکہ القیصریہ مارکیٹ کو تاریخی شہر کے اہم ترین ورثے اور تاریخی مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں