سپریم کورٹ نے ایک فرد کی خاطر کی گئی قانونی ترمیم اڑا دی

چھ مرتبہ وزیر اعظم بننے والا مشکل میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی سپریم کورٹ نے بدھ کے روز اپنے ایک فیصلے میں اس قانونی ترمیم کا نفاذ روک دیا ہے جس کا مقصد ایک خاص فرد کو فائدہ پہنچانا اور اس کے خلاف عدالتی فیصلوں پر عمل کو روکنا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ترمیم واضح طور پر ذاتی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد ایک فرد کو فائدہ پہنچانا ہے ، اس لیے پارلیمنٹ کے اختیارات کا یہ غلط استعمال ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ یہ ترمیم پارلیمنٹ کی اگلی مدت تک موخر کر دی جائے۔ '

بتایا گیا ہے اسرائیلی حکومت نے اس ترمیم کو اس لیے پسند کیا تھا کہ اس کے ذریعے جمہوری طریقے سے منتخب وزیر اعظم نیتن یاہو کو عدالتی فیصلوں سے تحفظ رہے اور عدالت وزیر اعظم کو حکومت سے نہ نکال سکے۔

واضح رہے اس سے ملتا جلتا کیس آجکل پاکستان کے سپریم کورٹ میں بھی بطور خاص زیر سماعت ہے۔ جس کا فیصلہ جلد متوقع ہے۔ دونوں ملکوں میں اتفاق سے ایک جیسے کیس زیر سماعت ہیں۔

تاہم اسرائیلی سپریم کورٹ کے ججوں نے اس ترمیم کا نفاذ روک دیا ہے کیونکہ اس ترمیم کا مقصد بطور خاص ایک (' خاص سیاستدان' ) فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے تھا۔

اسرائیلی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ 23 مارچ کو دائر کردہ درخواست پر سامنے ایا ہے۔ درخواست دائر کرنے والوں میں ' پولیٹیکل واچ ڈاگ گروپس' اور اپوزیشن پارٹی شامل تھی۔ ان کا موقف تھا کہ یہ ترمیم آئین کے بنیادی قانون سے متصادم ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے بھی ایک فرد کے فائدے کے لیے ترمیم کی حمایت کی یہ جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ خیال رہے محض تین دنوں میں اسرائیل کی سپریم کورٹ کا اسرائیلی وزیر اعظم کی حکومت کو دھچکا پہنچانے والا یہ دوسرا بڑا فیصلہ ہے۔ اسرائیلی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو عام طور ایک آزاد شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں