فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ جنگ کے تین ماہ ، ایریز راہداری پر گولیوں سے چھدی کاریں اور آوارہ اسرائیلی کتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سات اکتوبر کو حماس کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد غزہ اور اسرائیل کے درمیان اونچی فصیل سے متصل 'ایریز راہداری' کے آس پاس کا منظرعجیب ہے۔ گولیوں سے چھدی کاروں کے درمیان آوارہ اسرائیلی کتے مزے سے اور پوری آزادی سے گھوم رہے ہیں۔

بلند اسرائیلی فصیل جس کے ہر موڑ پر کیمرے لگے ہیں۔ اس میں موجود ' ایریز راہداری ' عام طور پر سخت اسرائیلی نگرانی اور مسلح اہلکاروں کے ساتھ ہوتی تھی، اب منظر مختلف ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے اس نے غزہ کی سرحد پر زیر زمین حماس کی سب سے بڑی سرنگوں کی دریافت کی ہے۔ '' اے ایف پی کے فوٹو گرافر نے 3 جنوری کو ان مناظر کو فلم بند کیا ہے جو پہلے کبھی نہ تھے۔ تاہم تقریباً تین ماہ سے جاری جنگ کا انجام اور فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

ان مناظر میں ٹوٹی پھوٹی گاڑیاں ''ایریز راہداری سے متصل موجود ہیں۔ کاروں پر گولیوں کے نشان ہیں، تباہ حالی کا نمائندہ پارکنگ ایریا بھی ہے۔ عبرانی زبان کے علاوہ انگریزی اورر عربی میں لکھے خیر مقدمی کلمات کے نیچے ملبے کے ڈھیر ہیں۔

3 جنوری 2024 کو لی گئی اس تصویر میں 7 اکتوبر کو حماس تحریک کے حملوں کے بعد جنوبی اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے درمیان ایریز بارڈر کراسنگ پر تباہ شدہ گاڑیوں کے ارد گرد کتے دکھائی دے رہے ہیں۔ (تصویر برائے JACK GUEZ/AFP)

ان ٹوٹی کاروں کے ڈھانچوں کے بیچوں بیچ آوارہ کتے گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم انسانوں کے لیے ایریز راہداری اب مکمل بند ہے۔

اب ایرز کے ساتھ ہی اسرائیلی فوجی اڈہ ہے جس میں فوجی گاڑیاں اور اسرائیلی فوجی گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس علاقے میں اسرائیلی فوج نے پچھلے ماہ صحافیوں کو حماس کی 400 میڑ بنائی گئی زمینی سرنگ دکھائی تھی۔

اس زمینی سرنگ کے بارے میں ایک حماس عہدے دار کا کہنا تھا ۔ زمینی سرنگ نے اپنا حق پوری طرح ادا کر دیا تھا ، مکمل کامیابی کے ساتھ مشن مکمل ہوگیا۔

خیال رہے اس منظر کے مقابل غزہ کی پٹی ہے جہاں اب تک 22300 فلسطینی اسرائیلی بمباری سے ہلاک کر دیے گئے ہیں۔ ان میں اکثریت کم سن فلسطینی بچوں کی اور گھریلو عورتوں کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں