غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور دوبارہ اسرائیلی قبضہ قبول نہیں کرسکتے: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب نے جمعرات کے روز اسرائیلی وزیروں کے اس بیان کو مسترد کر دیا ہے ، جس میں ان وزیروں نے غزہ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور غزہ میں دوبارہ یہودی آباد کاری کے لیے کہا تھا۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ' اسرائیل کی طرف سے اس طرح کا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گا۔ اس لیے مملکت قابض اسرائیلی حکومت کے وزیروں کے ان انتہا پسندانہ بیانات کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتی ہے اور ان کی مذمت کرتی ہے۔'

' جس وزیر نے یہ کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ کرکے یہودی بستیاں بنائے گا اور فلسطینیوں کو بے دخل کرے گا قابل مذمت ہے۔ '

مملکت کی طرف سے زور دے کر کہا گیا ہے' اسرائیل کو اس کی مسلسل عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی قوانین کے تحت کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بین الاقوامی برادری کو ٹھوس کوششیں کرنا ہوں گی۔'

واضح رہے اسی ہفتے کے شروع میں اسرائیلی وزیروں بذلیل سموٹریچ اور ایتمار بین گویر نے اپنے بیانات میں کہا تھا ' فلسطینیوں کو غزہ سے باہر نکالا جائے۔

سموٹریچ کے مطابق 'اگر غزہ میں یہودی آباد کیے جائیں گے ( مغربی کنارے کی طرح ) تو یہ غزہ کو کنٹرول کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کی مدد کے لیے مفید ہو گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ فلسطینیوں کی غزہ چھوڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جائے۔

سموٹریچ نے مزید کہا ' اگر ہم نے 'سٹریٹیجیکلی' درست اقدامات کیے تو دو ملینز کی تعداد میں موجود فلسطینی صرف ایک دو لاکھ غزہ میں رہ سکیں گے۔ اس طرح جنگ کے بعد کا منظر اور زندگی مختلف ہو گی۔ دو ملین فلسطینیوں کے ساتھ نہیں۔

بعد ازاں سموٹریچ کے اسی بیان کو سلامتی کے اسرائیلی وزیر بین گویر نے آگے بڑھایا۔ بین گویر نے کہا ہمیں غزہ سے فلسطینیوں کے انخلاء کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے 24 لاکھ کی فلسطینی آبادی والے غزہ کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کی ہے۔ امریکہ کی طرف سے بھی بین گویر کے اس بیان کو مسترد کیا گیا ہے۔

امریکی ترجمان میتھیو ملر نے تو یہ بھی کہا ہے کہ 'اسرائیلی وزیر کا بیان آگ بھڑکانے والا اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں