مشرق وسطیٰ

’تزویراتی تحمل‘: خامنہ ای کی ایرانی قیادت کو امریکا سے ٹکراؤ سے گریز کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان گذشتہ سات اکتوبر سے شروع ہونے والے تنازعے کی توسیع کے بارے میں بین الاقوامی اور علاقائی خدشات کے درمیان علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ایران "سٹریٹیجک صبر" کے اصول پر چل رہا ہے۔

ملک کے جنوب میں ضلع کرمان بیک وقت ہونے والے دو حملوں اور اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے گڑھ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں حماس کے رہنما صالح العاروری کے قتل اور شام میں ایک سینئر پاسداران کمانڈر راضی موسوی کے قتل کے بعد ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ نے کہا ہے کہ اب بھی صبر کی ضرورت ہے۔

تزویراتی صبر وتحمل

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے اندرونی مباحثوں سے واقف دو افراد نے انکشاف کیا کہ خامنہ ای زیادہ محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ انہوں نے فوجی کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ "تزویراتی صبر" پر عمل کریں اور ایران کو ہر قیمت پر امریکا کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم میں لانے سے گریز کریں۔

کرمان میں ایک بم دھماکے کی جگہ سے (ایسوسی ایٹڈ پریس)
کرمان میں ایک بم دھماکے کی جگہ سے (ایسوسی ایٹڈ پریس)

انہوں نے نشاندہی کی کہ ایرانی رہ نما نے فوج کو حکم دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف خفیہ کارروائیوں یا شام اور عراق میں امریکی اڈوں پر پراکسی ملیشیا کے حملوں کے لیے جوابی کارروائی کو محدود کرے۔

کل بدھ کو خامنہ ای نے صوبہ کرمان میں دو مقامات کو نشانہ بنانے والے دوہرے حملے کا "سخت جواب" دینے کا عزم کیا۔ انہوں نے ایک بیان میں زور دیا کہ "ان شاء اللہ اس تباہی کا سخت جواب ملے گا"۔

دریں اثنا تہران نے جمعرات کو ملک بھر میں قومی یوم سوگ کا اعلان کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز جنوبی ایران میں تقریباً بیک وقت ہونے والے دو بم دھماکوں میں 95 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں ہجوم کو نشانہ بنایا گیا تھا جو ایرانی پاسداران انقلاب میں قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کی چوتھی برسی کی یاد منا رہے تھے۔

ایران نے ان حملوں کو دہشت گردا نہ قرار دیا تھا اور اس کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں